Tuesday , 19 September 2017
Latest News
You are here: Home » News » وزیر خزانہ اسحق ڈار کی قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کا متن

وزیر خزانہ اسحق ڈار کی قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کا متن

میورک رپورٹ
ishaq_dar_budget_speech
اسلام آباد: آئندہ مالی سال 2013-14ء کا قومی بجٹ بدھ کی شام قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا۔ وفاقی وزیر برائے خزانہ، مالیات، اقتصادی امور، شماریات اور نجکاری محمد اسحق ڈار نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نئی حکومت کا پہلا بجٹ ایوان زیریں میں پیش کیا۔

وزیر خزانہ اسحق ڈار میں قومی اسمبلی کی بجٹ تقریر کا متن حسب ذیل ہے۔ 

’’نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم‘‘
’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘
حصہ اول
جناب سپیکر 
آج میں جب نئی منتخب حکومت کا پہلا بجٹ اس ایوان کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں تو میں اللہ تعالی کا بے پناہ شکرگزار ہوں کہ اس نے یہ اعزاز مجھے عطا فرمایا ہے، یہ صرف ایک بجٹ کے پیش کرنے کا موقع نہیں بلکہ یہ ملک میں پرامن انتقال اقتدار کا لمحہ ہے جب ایک منتخب حکومت اپنی مدت کی تکمیل کے بعد اور ملک میں انتخابات کے انعقاد کے بعد ایک نئی جمہوری حکومت اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکی ہے، ہماری قوم بجا طور پر اس بات پر فخر کر سکتی ہے کہ یہ ایک قدم ملک میں جمہوری عمل کے تسلسل میں ایک بڑا فاصلہ طے کر رہا ہے۔
2۔ جیسا کہ جناب وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ملک میں ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے اور اس دور کے لئے انہوں نے امید اور بہتر توقعات کا پیغام دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی قوم صلاحیتوں کے اعتبار سے دنیا کی کسی بھی قوم سے کم نہیں اور یہ کہ ہماری منزل سوائے ترقی کے اور کچھ نہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ان کی قیادت میں یہ قوم ایک نئی دنیا کی طرف آگے بڑھے گی جہاں پاکستان اقوام عالم میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرے گا۔ اپنی عزت اور شناخت کو منوائے گا۔ انشاء اللہ
3۔ معیشت کے سلسلہ میں جناب وزیراعظم نے اصلاحات کے ایک جامع پروگرام کا اعلان کیا جو اس کو ایک نئی جلا بخشے گا۔ ترقی کے عمل کو تیز تر کرے گا۔ قیمتوں میں استحکام پیدا کرے گا۔ نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ملک میں نہایت ضروری انفراسٹرکچر کی تعمیر کرے گا۔
جناب سپیکر!
4۔ لیکن میرے پر جوش جذبات اور احساسات اس وقت سرد پڑ جاتے ہیں جب میں آج کی ٹوٹی پھوٹی معیشت کو دیکھتا ہوں جو ہمیں ورثے میں ملی۔ معاشی ترقی سے قیمتوں تک محصولات سے اخراجات تک، مجموعی قرضے (Public Debt) سے گردشی قرضے (Circular Debt) تک، Monetary Expansion سے Mark up کی شرح تک، زرمبادلہ کی شرح سے زرمبادلہ کے ذخائر تک اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن میں استحکام تک، کاش کوئی ایسا کارکردگی کا اشاریہ ہوتا جس سے متعلق میں یہ کہہ سکتا کہ اس معیشت کی دیکھ بھال بہترین قومی مفاد میں کی گئی۔ درحقیقت دیکھ بھال کا عمل موجود ہی نہیں تھا اور یوں لگتا ہے کہ معیشت کا نظام Autopilot پر چل رہا تھا اور جو کچھ بھی معیشت میں مضبوطی اور کمزوریاں تھیں وہ اپنے طور پر عمل پذیر تھیں اور پالیسی سازی کا اس کی کارکردگی میں کوئی حصہ نہیں تھا۔ ایک جمہوری حکومت کے لئے ایسا ورثہ پیچھے چھوڑنا سیاست دانوں کے باب میں کوئی اچھا بیان نہیں۔ اس تناظر میں اگر ہم دیکھیں تو حالیہ انتخابات کے نتائج عوامی احتساب کا عمل تھا اور انہوں نے ایک واضح فیصلہ دے کر یہ طے کر دیا کہ گذشتہ پانچ سال کی کارکردگی انہیں قابل قبول نہیں۔
جناب سپیکر!
5۔ میں اس ایوان کے سامنے چند اہم Indicators کو رکھنا چاہتا ہوں تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ گذشتہ پانچ سالوں میں معیشت کی کارکردگی کس زبوں حالی کا شکار رہی۔
(1) پانچ سالوں میں اوسطاً شرح نمو (Growth Rate) 3 فیصد سے کم رہی ہے جو ہماری استعداد سے بہت کم ہے، اگر آبادی میں اضافہ کی شرح کو سامنے رکھا جائے جو تقریباً 2 فیصد ہے تو اوسطاً ہماری فی کس آمدنی میں ایک فیصد کا اضافہ ہوا ہے جو کسی طرح بھی اطمینان بخش نہیں۔
(2) افراط زر (Inflation) کی اوسطاً شرح 13 فیصد رہی جس کی پچھلی چار دہائیوں میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
(3) شرح مبادلہ جو تقریباً 62 روپے فی ڈالر تھی وہ اب 100 روپے فی ڈالر ہو گئی ہے۔
(4) سٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر جو 11.1 ارب ڈالر تھے وہ کم ہو کر 6.3 ارب ڈالر رہ گئے ہیں، اس کے باوجود کہ گذشتہ حکومت نے IMF سے بھی ایک خطیر قرضہ لیا۔
(5) گردشی قرضہ (Circular Debt) کسی قابل ذکر مقدار میں موجود نہیں تھا جبکہ آج اور باوجود اس کے کہ 1481 ارب روپے کی Tariff Subsidies ادا کی گئیں۔ ہم سب کو معلوم ہے کہ 500 ارب روپے سے زیادہ گردشی قرضے (Circular Debt) ہمارے بجلی کے نظام اور سرکاری مالیات کو تباہ و برباد کر رہا ہے۔
(6) بجٹ کا اوسط خسارہ 7 فیصد رہا جس کی ماضی قریب کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
(7) ملک کا مجموعی قرضہ (Public Debt) 31 مارچ 2008ء کو 5602 ارب روپے تھا جس کی متوقع مقدار 30 جون 2013ء کو 14284 ارب روپے ہو گی۔ اس کا مطلب ہے کہ اس دوران مجموعی قرضے میں اڑھائی گنا اضافہ (255 فیصد) ہوا اور اگر ہم مجموعی قرضے کو مجھوی قومی آْدنی کے تناسب سے بھی دیکھیں تو آغاز کار میں یہ تناسب 52.6 فیصد تھا جو کہ رواں مالی سال کے آخر تک بڑھ کر 63.5 فیصد متوقع ہے یعنی اس تناسب میں بھی تقریباً 10 فیصد کا خطیر اضافہ ہوا ہے اور فی الوقت یہ اس حد کو بھی عبور کر چکا ہے جو Fiscal Responsibility & Debt Limitation Act 2005 میں طے کی گئی ہے۔ یہاں میں یہ عرض کرتا چلوں کہ ملک کا مجموعی قرضہ 1947 سے 30 جون 1999 کو تقریباً 3000 ارب روپے تھا۔
6۔ یہ وہ چند جھلکیاں ہیں اس معاشی میدان کی جو PML (N) وراثت میں پا رہی ہے۔ میں نے انہیں صرف اس مقصد کے لئے بیان کیا ہے کہ کارکردگی کا ایک معیار متعین ہو جائے کہ جہاں سے ہم اپنے سفر کا آغاز کر رہے ہیں یقیناً یہ ایک افسوسناک صورتحال ہے لیکن ہم اس وجہ سے نہ مایوس ہیں اور نہ ہی بے حوصلہ۔ درحقیقت حالات کو بہتر کرنے کیلئے جس عزم اور حوصلے کی ضرورت ہے معیشت کی زبوں حالی کے صحیح ادراک نے ہمارے اس عزم کو مزید پختہ کر دیا ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں ہماری پارٹی نے یہ طے کر لیا ہے کہ ہم موجوں کا رخ بدلیں گے اور صرف معیشت کی صحت کو ہی بحال نہیں کریں گے بلکہ اسے اس بلند سطح پر لے کر جائیں گے جہاں اس کی حقیقی استعداد اور صلاحیت کو حاصل کیا جا سکے۔
جناب سپیکر!
7۔ جو بجٹ آج میں آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں وہ محض محاصل (Revenues) اور اخراجات (Expenditure) میں توازن پیدا کرنے کا عمل نہیں ہے بلکہ یہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی معاشی پالیسی کا بیان ہے جس پر وہ اپنی مدت حکومت میں عمل پیرا رہے گی۔ (انشاء اللہ) یہ ہمارے انتخابی منشور پر مبنی ہے جس کا اعلان ہم نے انتخابات میں جانے سے پہلے کیا تھا۔ اس تناظر میں یہ بجٹ ہماری اس خواہش کا اظہار ہے کہ ہم قوم سے کئے گئے سارے وعدوں کو پورا کریں گے کہ جس کی بنیاد پر قوم نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔
معاشی تصور (Economic Vision)
جناب سپیکر!
8۔ میں ابتدا میں اس معاشی تصور کو آپ کے سامنے بیان کرنا چاہتا ہوں جو معیشت کی تعمیر نو میں ہماری رہنمائی کرے گا اس تصور کے بنیادی نکات مندرجہ ذیل ہیں:
(1) سب سے پہلے ہم ایک ایسی معیشت بنانا چاہتے ہیں جو اپنی بقاء کے لئے دوسروں پر انحصار نہ کرے سوائے اس کے کہ وہ تجارت اور سرمایہ کاری کے ذریعہ دنیا سے اپنے رابطے رکھے۔ ہم 185 ملین عوام کی مضبوط قوم ہیں جس کو اللہ نے نیوکلیئر صلاحیت عطا فرمائی ہے۔ جس طرح ہم اپنی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں ایسے ہی ہم اپنی معاشی خود مختاری کی حفاظت بھی کریں گے اور یہ اسی وقت ممکن ہو گا جب ہم خیرات مانگنا چھوڑ دیں اور دوسروں کی خوشنودی کی پرواہ نہ کریں۔
خود انحصاری ہماری حقیقی مقصد ہونا چاہئے کیونکہ صرف اسی صورت میں ہم اقوام عالم میں عزت اور وقار حاصل کر سکیں گے۔
(2) دوسرے، معاشی سرگرمیوں کا حقیقی محور نجی شعبے کو ہونا چاہئے اور اس بوجھ کا ایک بہت بڑا حصہ ان کے کاندھوں پر ہونا چاہئے۔ ایک ایسی حکومت جو خود کو ایسی کاروباری سرگرمیوں میں مصروف رکھے جو نجی شعبہ (private Sector) احسن طریقے سے چلا سکتا ہو ایک مارکیٹ نظام کے ذریعے وہ درحقیقت معاشی نظام میں ایک بہت بڑا بگا ڑ پیدا کرتی ہے اور اس میں نا انصافیاں پیدا کرتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مارکیٹ نظام میں قانونی ضابطوں کے تحت اور مقابلے کے رجحان کے تحت چلنا چاہئے لیکن وہ حکومت جو کاروبار کو چلانے میں مصروف ہو اسے یہ موقع کہاں ملتا ہے کہ وہ قانون اور ضابطوں سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کر سکے اور یوں صارفین کے حقوق کی صحیح حفاظت نہیں ہوتی لہذا حکومت کے کی زیادہ توجہ مارکیٹ نظام کی اصلاح اور اس کی قانون اور ضابطوں کی روشنی میں کارکردگی پر کڑی نظر رکھنے سے متعلق ہونی چاہئے۔ 
(3) تیسرے، معاشی سرگرمیوں میں حکو مت کی موجودگی صرف اس صورتوں میں جائز ہے جبکہ سرمایہ کاری کی ضرورتیں اتنی زیاہ ہوں جو کہ نجی شعبہ کی استطاعت سے باہر ہوں۔ پھر ایسے شعبے جن میں مارکیٹ نظام پر کشش مواقع نہ مہیا کرتا ہو باوجود یہ کہ معاشری لحاط سے یہ پرکشش ہوں جیسا کہ تعلیم، صحت اور آبادی کی فلاح وبہبود اور انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبے کیونکہ معاشرتی شعبے صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں اور جن کے لئے ہم خاطر خواہ مسائل مہیا کر رہے ہیں۔ وفاق کی سطح پر ہماری اولین ترجیح ملک کے تیزی سے خراب ہوتے ہوئے انفراسٹرکچر میں انقلابی تبدیلی لانا ہوگا خصوصاًبجلی کے شعبے میں جہاں بھیانک لوڈ شیڈنگ ہماری پیداواری صلاحیت کو زبردست نقصان پہنچا رہی ہے۔
(4) چوتھے، ہمارے تمام لوگوں کو ملک کو چلانے کے لئے جن وسائل کی ضرورت ہے ان میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ استثنات (Exemptions) اور رعایتوں کا سلسلہ بند کئے بغیر ایک خود انحصار معیشت کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔ بالکل اسی طرح اگر معقول وجوہات کی بناء پر حکو مت کسی خدمت کو شہریوں تک پہنچاتی ہے تو اس خدمت کی لاگت کو وصول کرنا لازمی ہے کیونکہ اس کے بغیر یہ خدمت کچھ عرصے تک تو چل سکتی ہے لیکن بالآخر یا تو اس کی فراہمی معطل ہوگی یا پھر اس بوجھ حکومت کے مالی نظام کو تباہ کر دے گا۔
(5) پانچویں، حکومت کو ان حدود کے اندر رہنا ہوگا جن کا تعین موجود وسائل کرتے ہیں جن کا تعین ان محاصل کے حصول سے ہوتا ہے جو ٹیکسوں کے ذریعے وصول کئے جا تے ہیں۔ اس ضمن میں حکومتوں کی کارکردگی کچھ قابل رشک نہیں رہی کیونکہ آمدنی سے زیادہ اخراجات ہماری معاشی زندگی کا معمول رہا ہے۔ میں اس سلسلے میں مزید گذارشات آگے چل کر آپ کے سامنے رکھوں گا۔
(6) چھٹے، ہمیں اپنی آبادی کے کمزور اور غریب طبقات کا خصوصی خیال رکھنا ہے۔ کسی بھی ملک کے عوام اس ملک کا حقیقی سرمایہ ہیں۔ کمزور طبقات ممکنات کا ایک بڑا ذخیرہ ہیں جو اگر حاصل ہو جائے تو وہ قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ اس تناظر میں ہمیں اپنی آبادی کے کمزور اور غریب طبقات کا خیال رکھنا ہوگا اور انہیں ترقی کے عمل میں شامل کرنا ہوگا لہذا ہم عہد کرتے ہیں کہ ہم ان طبقات کی بہبود کے لئے ایک قابل انحصار اور آسان حصول کا جامع پروگرام بنائیں گے جو مثالی حیثیت کا حامل ہوگا۔ 
9 باوجود یکہ یہ ایک سادہ تصور ہے لیکن ایک طویل عرصے سے ہم اس سے بھٹک گئے ہیں جبکہ اس دوران طاقتور مفاد پرست طبقات سامنے آگئے ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ یہ ملک اسی طرح مانوس اور بگڑی ہوئی راہ چلتا رہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ معیشت کو ایک یقینی اور مستحکم راہ کی تلاش میں ہم نے بے پناہ وقت ضائع کر دیا ہے۔ ہم اب مزید وقت ضائع نہ کریں اور ایک طے شدہ اور غیر مبہم سمت کا تعین کر دیں تاکہ ہمارے سرمایہ کاری طویل مدتی (Long Term) فیصلے کر سکیں اور دنیا میں ہماری شناخت مندرجہ بالا تصور کی حامل قوم کی حیثیت سے دنیا کی آنکھوں میں مسلمہ طور پر تسلیم ہونا چاہئے۔ 
10 یہ بجٹ معاشی تصور(Economic Vision) پر عملدرآمد کا منصوبہ قوم کے سامنے رکھے گا ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ تصور ایک دن میں حقیقت نہیں بن سکتا بلکہ یہ ایک طویل سفر کا آغاز ہے جس پر ہمیں مستقل مزاجی اور استقامت کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا لیکن جیسے کہ مثل مشہور کہ ہزاروں میل کا سفر ایک پہلے قدم سے شروع ہوتا ہے لہذا یہ ایوان اس بات کو دیکھے گا کہ موجودہ بجٹ وہ ابتدائی قدم ہیں جو ہم اس طویل سفر کے آغاز میں اٹھا رہے ہیں۔ 
بجٹ سٹریٹجی کے بنیادی نکات
جناب سپیکر!
11 میں اب ان اقدامات کی طرف آتا ہوں جو ہم موجودہ بجٹ میں اٹھا رہے ہیں تاکہ ان چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے
(1) مالیاتی خسارے( Fiscal Deficit) میں کمی: میں بالکل شروع میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری بجٹ کی حکمت عملی میں کلیدی نکتہ مالیاتی خسارے کو کم سے کم کرنا ہے تاکہ اس کے مضر اثرات جو ساری معیشت کو متاثر کرتے ہیں ان سے محفوظ رہا جائے۔ اس سال کا نظر ثانی شدہ مالیاتی خسارہ(Fiscal Deficit ) 2024 ارب روپے ہے جو کہ قومی پیداوار (GDP) کا 8.8 فیصد ہے ہم نے اس بجٹ میں اس میں 2.5 فیصد کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ اگلے مالی سال میں 1651 ارب روپے یعنی 6.3 فیصد رہے گا لیکن ہمیں اسے مزید کم کرنا ہے لہذا بتدریج اگلے دو سالوں میں اس کو چار فیصد تک کم کر دیا جائے گا۔ 
(2) ٹیکس محاصل میں اضافہ: اس ضمن میں جو اقدامات کر رہے ہیں ان کا بیان میری تقریر کا حضہ دوئم میں آئے گا۔
(3) افراط زر میں کمی: مندرجہ ذیل اقدامات قیمتوں میں موجود دباؤ کو ختم کرنے میں مدد دیں گے۔
i مالیاتی خسارے میں کمی افراط زر کو کم کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا۔
ii ہم قیمتوں پر مسلسل نگاہ رکھیں گے تاکہ ضروری اشیاء کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔ وسیع پیمانے پر جمعہ اور اتوار بازار سارے ملک میں کھولے جائیں گے۔ اور جہاں بھی ضرورت ہوگی درآمدات کے ذریعے متبادل رسد (Supply) کی فراہمی کی جائے گی تاکہ مقامی قلت کو دور کیا جاسکے۔
iii ہم عوامی بچتوں (National Saving) اور نسبتاً غیر ملکی قرضوں کے ذریعے سے مالیاتی خسارے کو پورا کریں گے جس سے قرضوں کے ذریعے سے مالیاتی خسارے کو پورا کریں گے۔ جس سے قرضوں کی ادائیگی میں بھی سہولت پیدا ہوگی۔ عوام کے لئے نئی بچتوں کی سکیموں کو متعارف کرایا جائے گا جن کے ذریعے وہ حکو متی سیکورٹیز تک رسائی حاصل کر سکیں گے جو کہ فی الحال بنکوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ یہاں پر ان کا منافع زیادہ ہوتا ہے اور چھوٹے کھاتہ داروں تک معمولی اضافہ پہنچتا ہے۔ 
iv آخر میں ہم Debt Menagement Office کی تنظیم نو کر رہے ہیں اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے حامل افراد کی تعیناتی کے ذریعے ہم اپنے مجموعی قرضے کو بہتر طریقے سے اور کم لاگت پر منظم کرنے کی کوشش کریں گے۔
v سٹیٹ بینک سے قرضوں پر انحصار کم کیا جائے گا لیکن یہاں پر بہت درد کے ساتھ یہ بات رکھنا چاہوں گا کہ 1956 Act SBP جس میں پارلیمنٹ نے 2012ء میں ایک اہم ترمیم منظور کی تھی اس میں سٹیٹ بینک سے حکومتی قرضے، جو درحقیقت نوٹوں کی چھپائی کا عمل ہے سے متعلق دو اہم حدود کا تعین کیا گیا تھا ان حدود کی مسلسل خلاف ورزی کی گئی ہے۔ پہلے یہ حکومت قرضہ صرف تین ماہ کیلئے لے سکتی ہے اور سہ ماہی کے آخر میں اس کی واپسی ضروری ہے۔ دوسرے یہ کہ ترمیم کے وقت قرضوں کی مقدار جو 1400 ارب روپے تھی اس کے متعلق یہ طے کر دیا گیا تھا کہ آئندہ 8 سالوں میں ان کی ادائیگی کر دی جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ ہی سہ ماہی حد کا لحاظ رکھا گیا ہے اور بجائے 1400 ارب روپے کی واپسی کا آغاز کرنے کے اس میں 64 فیصد مزید اصافہ کر کے 2300 ارب روپے بنا دیا ہے۔ اب ہمارے لئے یہ کیسے ممکن ہوگا کہ باقی 6 سالوں میں تقریباً 400 ارب روپے سالانہ اس قرضے کو ختم کرنے کیلئے ادا کریں۔ 
4 توانائی بحران کا حل: باوجود یکہ توانائی کا بحران ایک پہاڑ کی مانند ہے لیکن مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے یہ عہد کیا ہے کہ وہ اس مسئلے کو فوری طور پر احسن طریقے سے حل کرے گی ہم نے ایک پروگرام ترتیب دیدیا ہے اور انشاء اﷲ ہم اسے فوری طور پر نافذ کر رہے ہیں۔ اس پروگرام کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں۔سب سے پہلے مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے بہت مسرت ہو رہی کہ میاں محمد نوازشریف نے یہ تاریخی فیصلہ کیا ہے کہ گردشی قرضے (Circular Debt ( کو 60 دن میں ختم ) Settle) کیا جائے تا کہ ملک میں موجود پیداواری صلاحیت کے حامل تمام تجلی گھروں کو چلایا جاسکے ۔ دوسرے اس کے نتیجے میں ہمیں یقین ہے کہ ملک میں لوڈشیڈنگ میں کمی شروع ہوجائے گی ۔ تیسرے اس عظیم کوشش کے متوقع نتائج صرف اس صور ت میں مرتب ہوں گے جب ہم ان تمام وجوہات کا سدباب کردیں جو اس کو پیدا کرنے کا باعث ہے ۔ میں تمام صارفین سے گزارش کروں گا کہ وہ اپنے بلز وقت پر ادا کریں کیونکہ ان کی مکمل ادائیگی کے بغیر بجلی جیسی اہم خدمات مستقل بنیادوں پر فراہم نہیں کی جاسکتی ۔ چوتھے Federal Adjuster کے دفتر کو ازسرنومنظم کیاجائے گا تاکہ وہ صوبائی حکومتوں سے فوری وصولی کے اقدامات کرسکے۔ پانچویں‘ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف ایک جامع Energy Policy کا مستقبل میں اعلان کریں گے کہ Energy Projects کو لگانے والے Investors کو ہرممکن سہولت میسر کی جاسکے۔
(5) نندی پور پراجیکٹ : میں ا س ایوان کومطلع کرناچاہتا ہوں کہ نندی پور پاور پراجیکٹ جو کہ ایک انتہائی کم لاگت پراجیکٹ ہے کو مجرمانہ طورپر نظر انداز کیاگیا ۔ اس پراجیکٹ کی صلاحیت 425MW ہے اور اس کی ابتدائی قیمت 23 ارب روپے تھے ۔ اس پراجیکٹ کی درآمد شدہ مشینری پچھلے تین سال سے اس لئے ناکارہ پڑی ہے کہ حکومتی اداروں نے اس کو صرف کچھ کاغذات نہ ہونے کی وجہ سے Clearnce نہیں دی ۔ آج اس پراجیکٹ کی قیمت بڑھ کر 57 بلین روپے ہوچکی ہے ۔ ہم نے فوری طورپر اس صورتحال کاجائزہ لیا ہے اوراس کے تدارک کے لئے متعلقہ کاغذات کی Clearnce اور ازسرنو اجازت لینے کے لئے کوشش کررہے ہیں جونہی اگلے چند ہفتوں میں یہ معاملہ حل ہوگا اس کے اوپر تعمیراتی کام فوری طورپر شروع کردیاجائے گا اور یہ پراجیکٹ انشااﷲ 18 ماہ میں پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا اور میں یہاں یہ بتاتاچلوں کہ جو بھی اس عظم قومی نقصان کے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
(6) بلاحدف Subsidies میں کمی : ہمیں اس ملک کے مالیاتی نظام کو بلا حدف سبسڈیز (Untargeted subsidies) کے بوجھ سے بچانا ہوگا۔ ہمیں اس کا احساس ہے کہ کمزور طبقات حکومتی مدد کے مستحق ہیں۔ لہذا سبسڈی کی کوئی بھی سکیم چاہے وہ بجلی‘ گیس فرٹیلائزر‘ چینی اورگندم سے متعلق ہو وہ اپنے مناسب حدف تک پہنچے۔ چنانچہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم سبسڈیز کے سارے نظام کا جائزہ لیں گے اس میں معقولیت پیدا کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھیں گے کہ وہ غریب اور امیر کو مساوی طورپر نہ پہنچے۔
(7) بیرونی ادائیگیوں کے توازن میں بہتری : اس وقت ہماری سب سے بڑی پریشانی بیرونی وسائل کی کمی ہے جو کہ ادائیگیوں کے توازن میں استحکام لائیں اور ترقیاتی عمل کے لئے اضافی وسائل پیدا کریں۔ خدا کے فضل وکرم سے ہم ایک متحرک معاشی تصور دے رہے ہیں اور اس بجٹ میں اس پر عملدرآمد شروع کررہے ہیں جو دنیا میں ہماری بہتر عکاسی کرے گا اور ہمارے Partners Development کے اعتماد میں اضافہ کرے گا جس کے بعد بیرونی وسائل کی معمول کے مطابق فراہمی شروع ہوجائے گی۔ مزید اہم بات یہ کہ ہم ایک شفاف نیلام کے ذریعے بہت جلد اپنے 3G لائسنسز فروخت کریں گے جس سے ہمیں Foreign Exchange میں خطیر رقم متوقع ہے ہم کوششیں کریں گے کہ PTCL کی نجکاری کی بقایا رقم جو 800 ملین ڈالر ہے وہ ’’اتصلات‘‘ (Etisalat) سے حاصل کی جائے جو کہ گزشتہ 5 سال سے واجب الادا ہے ۔ یقین ہے ہم سرمایہ کاری کی بین الاقوامی مارکیٹ میں دوبارہ داخل ہو جائیں گے جس سے اضافی طورپر بیرونی وسائل حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ ہم پاکستان کے نجکاری پروگرام کو دوبارہ پرزورطریقے سے شروع کریں گے جو نہ صرف بیرونی وسائل کے حصول میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری کے مواقع بھی پیدا کرے گا ۔
(8) روزگار کے مواقع: روزگار کے زیادہ تر مواقع نجی شعبے میں پیدا ہوں گے‘ گو کہ حکومت بھی اس سلسلے میں اپنا کردارادا کرے گی۔ آگے چل کر میں آپ کو ترقیاتی پروگرام سے متعلق معلومات فراہم کروں گا اس وقت میں صرف اتنا کہوں گا کہ باوجود یہ کہ ہم مالیاتی خسارے میں زبردست کمی کررہے ہیں لیکن ہم نے ترقیاتی اخراجات کو 40 فیصد سے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے جو اس مالی سال کے Development Budget جو کہ 360 ارب روپے ہے سے بڑھ کر 540 ارب روپے ہوجائے گا۔ صوبائی حکومتیں مزید 615 ارب روپے کے ترقیاتی اخراجات کریں گی اور مجموعی ورپر ملک میں 1155 ارب روپے کی ترقیاتی سرمایہ کاری ہوگی جوکہ مجموعی قومی پیداوار کا 4.4 فیصد ہے بلاشبہ ترقیاتی اخراجات میں مزید اضافہ ہونا چاہیے لیکن ہمیں وسائل کی قلت کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود ترقیاتی اخراجات کو نہ صرف تحفظ دیاگیا ہے بلکہ اس میں بے مثال اضافہ کیاگیا ہے۔ سرکاری شعبے میں اس سرمایہ کاری سے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے اور یہ دیگر معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیں گے جو مزید روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا موجب ہوں گے۔
(9) ترقی کیلئے سرمایہ کاری میں اضافہ: ہمارا ایک اہم چیلنج سرمایہ کاری میں مجموعی اضافہ ہے۔ اوپر میں نے ان اقدامات کا ذکر کیا ہے جیسے مالیاتی خسارے میں کمی‘ قیمتوں میں استحکام‘ اورشرح مارک اپ میں کمی‘ یہ سب سرمایہ کاری میں اضافے کا باعث ہوں گے۔
(10) سرکاری کارپوریشنوں میں اصلاحات: ہم نے یہ تہیہ کیا ہے کہ سرکاری اداروں میں اصلاحات اور تنظیم نو کا ایک بنیادی عمل شروع کیاجائے گا تاکہ ان سے ہونے والے نقصانات کو کم کیاجاسکے۔ پہلے قدم کے طورپر ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم ان اداروں میں Professional Managers کو تعینات کریں گے جن کا انتخاب مقابلے اور شفاف عمل کے ذریعے Merit پر کیاجائے گا وہ تمام ادارے جن کو منافع پرنجکاری کے عمل سے گزارا جاسکتا ہے انہیں ایک معتبر نجکاری پروگرام کے ذریعے نجی شعبے کے حوالے کیاجائے گا اورجہاں نجکاری موزوں نہیں ہے وہاں پر ایک Management معاہدے کے ذریعے نجی شعبے کے حوالے کریں گے یا پھر مکمل طورپر آزاد انتظامیہ تعینات کی جائے گی جوان اداروں کو پیشہ وارانہ بنیادوں پر چلائیں گی۔ اس کے ساتھ ہی ہم ان اداروں کی مالیاتی تنظیم نو بھی کریں گے تاکہ وہ مستحکم کاروباری بنیادوں پر استوار ہوسکیں۔
(11) کمزورطبقات کا تحفظ: مسلم لیگ (ن) نے اپنے منشور میں Protection Social سے متعلق ایک تفصیلی حکمت عملی مرتب کی ہے۔ درحقیقت مجھے اس بات پر خوشی ہے کہ ایک مختصر مدت کے لئے 2008ء جب PML(N) وفاقی حکومت کا حصہ تھی اس وقت ایک انکم سپورٹ فنڈ کی تشکیل کا منصوبہ میں نے بحیثیت وزیرخزانہ تیار کیا تھا یہ ایک ایسا منصوبہ تھا جو غریبوں کی آمدنی میں غیرسیاسی بنیادوں پر اضافی مدد فراہم کرتا اور جس میں غریبوں کی شناخت کے لئے ایک واضح طریقہ کار کا تعین بھی کیاگیا تھا۔ بدقسمتی سے بعد میں یہ پروگرام اپنی اصلی روح سے ہٹ گیا اور اس میں سیاسی آلودگی بھی شامل ہوگئی۔ غریب خاندانوں کے معاملے میں یہ ہماری اہم ذمہ داری ہے کہ ہم اس طرح اس نوعیت کے پروگرام کو جاری رکھیں اور اس میں پیدا ہونے والے بگاڑ کو دورکریں اوراس کا دائرہ مزید وسیع کریں تاکہ مستحق لوگوں تک پہنچا جا سکے۔ مجھے خوشی ہے کہ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ انکم سپورٹ پروگرام جاری رہے گا اوراس میں مزید وسعت پیدا کی جائے گی اس پروگرام کے لئے نظرثانی شدہ تخمینہ جو 40 ارب روپے ہے اسے بڑھا کر 75ارب روپے کیا جا رہا ہے جو درحقیقت اس پروگرام کو 87.5 فیصد بڑھا دے گا لیکن ہم اس پروگرام کی تنظیم اوراس کے ڈیزائن میں ایسی تبدیلیاں کریں گے جو اس کے اصل مقاصد کے حصول میں زیادہ موثر ہوں اوراس کے ساتھ ہم اس پروگرام سے اخراج کی ایسی حکمت عملی بنائیں گے جو اس بات کا خیال رکھے کہ اس مدد کو حاصل کرنے والے لوگ اس پر ہمیشہ انحصار نہ کرنے لگیں بلکہ اس مدد کے ذریعے سے اپنی غربت سے چھٹکارا حاصل کریں اور روزگار کمانے کے قابل ہوں۔ مجھے اس بات کا اعلان کرنے میں خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ انکم سپورٹ فنڈ کے تحت موجودہ ماہانہ الاؤنس جو کہ 1000روپے ہے اس کو 20فیصد اضافے کے ساتھ 1200روپے ماہانہ کیاجارہا ہے ۔
وسط مدتی میکروم اکنامک فریم ورک 
Medium Term Macroeconomic Framework
جناب سپیکر :
12 یہ ہمارے فوری چیلنجز اوران سے نمٹنے کیلئے ہماری حکمت عملی کا ذکر تھا لیکن میں نے جس معاشی تصور کی بات کی ہے اس کا تقاضا ہے کہ ہم معیشت کو ایک وسط مدتی تناظر میں دیکھیں کیونکہ ملک کی پیداواری صلاحیت کو بڑے پیمانے پر بڑھانے کے لئے ایک دور رس سوچ کی ضرورت ہے لہذا یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ موجودہ بجٹ ایک وسط مدتی میکرو اکنامک فریم ورک کا حصہ ہے جو2013-14ء سے 2015-16ء تک پھیلا ہوا ہے۔ اس فریم ورک کے مرکزی نکات مندرجہ ذیل ہیں:۔
(1) شرح نمو(جی ڈی پی) بتدریج 2015-16 تک 7فیصد تک بڑھ جائے گی۔
(2) افراط زر(Inflation) کو ایک ہندسے (Single Digit) تک محدود رکھا جائے گا۔
(3) سرمایہ کاری کا تناسب20فیصد تک بڑھایا جائے گا۔
(4) مالیاتی خسارہ(Fiscal Deficit)2015-16 تک 4فیصد تک کم کردیا جائے۔
(5) پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر فریم ورک کے تیسرے سال میں 20 ارب ڈالر تک بڑھا دیئے جائیں۔(انشاء اللہ)
13۔ بلاشبہ یہ اہداف بڑے عزم اور حوصلے کا تقاضا کرتے ہیں لیکن یہ ہماری معیشت کی بحالی کے لئے لازم ہیں اور ہماری حقیقی صلاحیت سے مناسبت رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہم نے یہ تہیہ کیا ہوا ہے کہ ہم اس ملک کی تقدیر کو بدلنا چاہتے ہیں اور ہمارے اسی عزم اورحوصلے کی وجہ سے عوام نے ہم پر اعتماد کیا ہے۔
ترقیاتی پروگرام
جناب سپیکر!
14۔ میں اب ان اہم اقدامات کی طرف آتا ہوں جو ہم اس بجٹ میں ترقیاتی پروگرام کے حوالے سے کررہے ہیں۔ میں اپنی توجہ صرف ان شعبوں پر رکھوں گا جو ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔
پانی
15۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کودنیا میں آبی وسائل کے لحاظ سے بہترین نعمتوں سے مالا مال کیا ہے، خوش قسمتی سے تقسیم ہند کے موقع پر نہروں، کھالوں اور بیراجوں کا ایک وسیع نیٹ ورک بھی ہمیں ورثہ میں ملا اور ہماری ابتدائی لیڈر شپ کی بصیرت نے ہمیں تربیلا اورمنگلا جیسے عظیم منصوبوں سے مزید مستحکم بنایا۔ ان آبی وسائل کی وجہ سے یہ ممکن ہوا ہے کہ ہم ملک میں زراعت کو فروغ دیں جو ہماری معاشی زندگی کی شہ رگ ہے لیکن بدقسمتی سے ہم ان وسائل میں نہ ہی کوئی خاطر خواہ اضافہ کرسکے اور نہ ہی ان انمول اثاثوں کی خاطر خواہ نگہبانی کرسکے۔ ملک کی بڑھتی ہوئی آبی ضرورتوں کا یہ تقاضا ہے کہ ہم نئے آبی ذخائر بنائیں اور پانی کا ہر قطرہ توانائی کے لئے حصول کے لئے استعمال کریں۔
16۔ یہ وہ تصور ہے جس کی عکاسی موجودہ ترقیاتی پروگرام میں واٹر سیکٹر کے لئے مختص وسائل سے کیا جاسکتا ہے ۔ ہم اس سال اس سیکٹر کے لئے 59 ارب روپے کی سرمایہ کاری کررہے ہیں جس میں اہم منصوبے شامل کئے جارہے ہیں جیسا کہ کچھی کینال(ڈیرہ بگٹی اورنصیرآباد) ، رینی کینال، (گھوٹکی اینڈ سکھر)، کرم تنگی ڈیم (شمالی وزیرستان)، پٹ فیڈر کینال کی ڈیرہ بگٹی تک توسیع ، گومل زام ڈیم(جنوبی وزیرستان)گھبیر ڈیم (چکوال)، منگلا ڈیم ریزنگ منصوبے کی تکمیل، کھالوں کی پختگی(سندھ اور پنجاب) اورسارے ملک میں حفاظتی بند اور نکاسی آب کے منصوبے شامل ہیں۔
توانائی
جناب سپیکر!
17۔ مجھے اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ میں توانائی کے شعبے کی اہمیت پر روشنی ڈالوں اور یہ بتاؤں کہ کس طرح سے ہمارے عوام بجلی کی قلت کی وجہ سے تکالیف کا شکار ہیں۔ وزیراعظم اورپاکستان مسلم لیگ (ن) کی لیڈر شپ اس ایک مسئلے کے حل کی تلاش کے لئے صبح شام مصروف ہے۔ میں نے اوپر توانائی کے بحران کے حل کے لئے اہم اقدامات کا ذکر کیا ہے۔ اس مسئلے کا پائیدار حل توانائی کے اضافی وسائل کو پیدا کرنا ہے لہذا ترقیاتی اخراجات کا سب سے بڑا حصہ یعنی 225 ارب روپے اس شعبے میں سرمایہ کاری کے لئے رکھے گئے ہیں جس میں سے 107 ارب روپے پی ایس ڈی پی سے آئیں گے اور بقیہ118 ارب روپے Wapda-Ntdc-Gencos-Discos حکومتی مدد سے دیگر ذرائع سے حاصل کریں گے۔ اس شعبے میں شامل منصوبوں میں نیلم جہلم منصوبہ1000 میگاواٹ، بھاشا ڈیم4500 میگاواٹ، تربیلا چوتھا توسیعی منصوبہ1410 میگاواٹ، تھرکول گیسیفیکیشن منصوبہ100 میگاواٹ، چشمہ نیوکلیئر منصوبہ600میگاواٹ، چائنا کی امداد سے کراچی کوسٹل پاور کے دو منصوبے 1100-1100 میگاواٹ، خیال خاور منصوبہ 122میگاواٹ، الائی خواڑ منصوبہ122 میگاواٹ ، کمبائنڈ سائیکل پاور منصوبہ نندی پور425 میگاواٹ، اپ گریڈیشن آف گڈو پاور منصوبہ747 میگاواٹ(گیس بیسڈ)، مظفرگڑھ اور جامشورو پاور پلانٹس کی کوئلے پر منتقلی3120میگاواٹ اور اس کے علاوہ متعددمنصوبے ، ٹرانسمیشن لائنز کی بہتری، گرڈ سٹیشنز کی تعمیر اور تقسیم کے نظام کو موثر بنانے کے لئے شامل کئے گئے ہیں۔
18۔ ان منصوبوں سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے پاس ایک دیرپا پروگرام ہے سستی بجلی پیدا کرنے کے لئے اورملک کو تیل کی آلودگی سے بچانے کے لئے فیول مکس کی بہتری سے مستقبل میں بجلی کی قیمت میں استحکام پیدا ہوگا اور ان میں وہ اضافہ نہیں ہوگا جو ماضی قریب میں ہوا۔
شاہراہیں
جناب سپیکر!
19۔ میاں نواز شریف نے اسلام آباد لاہور موٹر وے بنانے کا جو جرأت مند فیصلہ کیا تھا اس کے بعد اس کے مقابلہ کا کوئی اور منصوبہ شروع نہیں ہوسکا باوجود کہ گذشتہ دو دہائیوں میں ہماری معیشت میں زبردست پھیلاؤ ہوا ہے اورمقامی آبادی کے لئے رابطوں کی ضرورتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ اس ہنگامی صورتحال کو مد نظررکھتے ہوئے ہم نے قومی شاہراہوں کے تمام منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اور ان میں نئی ترجیحات کا تعین کیا۔
20۔ شہری اور دیہی دونوں آبادیوں کو اپنی معیشت کی بہتری کیلئے رابطہ سڑکوں کی ضرورت ہے، ان رابطہ سڑکوں کی عدم موجودگی میں ہمارے کسان اپنی پیداوار کی بہترقیمت حاصل کرسکتے ہیں اور نہ ہی ہمارے شہری موثر طور پر صارفین تک اشیاء کی ترسیل کرسکتے ہیں۔ درحقیقت ہم کو شاہراہوں کے جال کو غربت کے خاتمہ کا اہم ذریعہ سمجھنا چاہئے کیونکہ اس کے بغیر ہمارے لوگ ان جگہوں سے کئے رہیں گے جہاں پر معاشی مواقع موجود ہیں۔
21۔ یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ ہم نے گوادر پورٹ جس کا منصوبہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے 1999ء میں بنایا، کوتو تعمیرکرلیا لیکن اس کی تعمیر کے دس سال بعد تک ہم نے اسے شمالی علاقوں سے نہیں جوڑا ہے۔ ایک کوسٹل ہائی وے بنایا ہے جو گوادر اور کراچی میں رابطہ پیدا کرتا ہے لیکن اگر ہم گوادر کی اشیاء کراچی لائیں گے اور پھر اسے اوپر منتقل کریں گے تو گوادر پورٹ سے ہونے والے فائدے فوت ہوجائیں گے۔
22۔ ہم گوادر پورٹ کے شمالی علاقوں سے جوڑنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر تربت، بسیما، رتو ڈیروسیکشن اورM-8 پر دیگر نسبتاً چھوٹے سیکشنز کی تعمیرکے فوری انتظامات کررہے ہیں تاکہ گوادر پورٹ کے حقیقی فوائد عوام کو ملنا شروع ہوجائیں، ہم M-4 پربھی کام میں تیزی لائیں گے تاکہ فیصل آباد، خانیوال، ملتان شاہراہ کی تکمیل ہو۔ اس کے علاوہ ہم M-9 جو کراچی کو حیدرآباد کو جوڑتا ہے اس کی پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ بنیادوں پر نجی شعبے سے تعمیرکرانے کی ازسر نو کوشش کریں گے اور ہمیں یقین ہیں کہ ہم اس کو مختصر مدت میں مکمل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے ، میں اس موقع پر اپنی حکومت کی جانب سے یہ واضح اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ موٹر ویز کا جال بچھانے کا جو تصور میاں نواز شریف کے ذہن میں تھا وہ انشاء اللہ ہماری اس نئی مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچے گا۔ موٹرویز کا یہ جال مقامی تجارت میں بے پناہ اضافے، ٹرانسپوریشن کی لاگت میں نمایاں کمی اور لوگوں کے لئے ارزاں ذرائع آمدورفت اور سیرو سیاحت کے نئے مواقعوں کا باعث بنے گا۔
23۔ موٹرویز کے جال کے علاوہ جناب وزیراعظم نے چین کی حکومت کے ساتھ ایک عظیم منصوبے کے سلسلے میں ابتدائی بات چیت کا آغاز کیا ہے۔ یہ منصوبہ کاشغر سے گوادر تک ایک جدید ایکسپریس وے اور ریلوے کا ہے۔ یہ منصوبہ قدیم شاہراہ ریسم کا جدید عکس ہوگا۔ یہ ایک بلند خیال منصوبہ ہے جو اس خطے میں تاریخی ترقی کے باب کھولے گا اور پاکستان کو اپنے شمالی پڑوسیوں سے قریبی رابطوں کا ذریعہ بنے گا۔
24۔ ان سٹرٹیجک منصوبوں کے علاوہ ہم متعدد قومی شاہراہوں، پلوں اور سیلاب سے متاثرہ شاہراہوں کی بحالی اورمقامی رابطوں کی سڑکوں کی تعمیرکے منصوبوں پربھی کام کررہے ہیں۔ اس سال ترقیاتی بجٹ میں ان منصوبوں کیلئے 63ارب روپے مختص کئے گئے ہیں بلا شبہ ان منصوبوں سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے جو ہماری ایک بڑی ضرورت ہے۔
ریلوے 
جناب سپیکر
25 ۔ تقسیم کے موقع پر جو اثاثے ہمیں ورثے میں ملے ان کو جس بے دردی سے ہم نے ضائع دیا ہے اس میں سب سے بری مثال پاکستان ریلوے کی ہے۔ ایک وقت تھا جب اس نظام کی پہچان موثر ترین وسیع تر اور ایک مستعد نیٹ ورک کی حیثیت سے ہوتا تھا۔ لیکن آج یہ اپنے ماضی کا ایک سایہ بھی نہیں۔ جس رفتار سے ریلوے نے ملک کے ٹرانسپورٹ سیکٹر میں اپنی اہمیت کو کھویا ہے اس سے یہ خدشہ ہے کہ اس کا انجام مکمل تباہی ہوسکتا ہے اور اس میں زبردست سرمایہ کاری ہو رہی ہے تاکہ تیز ترین مسافر اور مال بردار ریل گاڑیوں کو بنایا جائے اور استعمال میں لایا جائے۔ پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ اس ذرائع آمدورفت کو اب ماحول دوست تسلیم کر لیا گیا ہے لہذا سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کے مقابلے میں جو ہمارے روڈ انفراسٹرکچر کو تباہ کر رہی ہیں اور ماحول کو آلودگی کا باعث ہیں ریل کی آمدو رفت ہماری ترجیح ہونی چاہئے۔
26۔ ہماری ریلوے غلط طرز حکومت، کم سرمایہ کاری، عدم دیکھ بھال، نئے انجنوں کے فقدان، ویگنوں کی خستہ حالت، فرسودہ رابطوں کے نیٹ ورک کی عدم موجودگی اور دوہرے ٹریک کی عدم دستیابی کا شکار رہی ہے۔ کرایوں میں اضافہ نہ ہونا ، مارکیٹ کے حصے میں مسلسل کمی اور تیزی سے گرتے ہوئے محاصل، ان تمام کمزوریوں نے ریلوے کو اس مقام میں لاکھڑا کیا ہے جہاں وہ اپنی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگیوں کیلئے سالانہ 34 ارب روپے کی خطیر رقم وفاقی بجٹ سے حاصل کرتی ہے۔
27۔ ایک ایسا ادارہ جو بنیادی طور پر نفع بخش ہو اور وہ آج ایک ایسی حالت سے دوچار ہے جس میں بے پناہ نقصانات، بے شمار سٹورز جس میں قابل قدر پرانی ریلیں، ویگنیں، انجن اور Re- Building فیکٹریز عدم استعمال کا شکار ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ریلوے کوئی غریب ادارہ نہیں ہے کیونکہ اس کی ملکیت میں بیش قیمت زمینیں ہیں۔ اس ملک کو ملانے والی مرکزی ریل ہے اور ایک بڑی تعداد میں وہ شاخیں موجود ہیں جو ملک کے دور دراز علاقوں کو آپس میں جوڑتی ہیں۔ متعدد پل ہیں، بے شمار عمارتیں ہیں، فیکٹریز ہیں، تاریخی ریلوے سٹییشنز ہیں اور ٹیکنیکل اور سول سرونٹس کا ایک وسیع ذخیرہ ہے۔ یہ نہایت ہنر مند لیکن فی الحال مایوس اور عدم حوصلے کے حامل ہیں کیونکہ انہیں اپنی کل آج سے بہتر نظر آرہی ہے۔ لہذا ریلوے کا حقیقی مسئلہ، اس تناظر میں، وسائل کی قلت نہیں بلکہ ان کا قطعی غیر مستعد استعمال ہے۔ یہ سب کچھ بدلا جاسکتا ہے۔ لیڈر شپ کے ذریعے ایک تصور کے ذریعے، ایک عہد کے ذریعے اور ایک ایسے منصوبے کے ذریعے جس کو ایمانداری کے ساتھ عمل میں لیا جائے جو کہ ریلوے کے ان انمول اثاثوں اور انفراسٹرکچر کو مکمل استعمال میں لائے اور اس کے ملازمتوں کو ایسی ترغیبات دے جو انہیں بہتر کارکردگی کی طرف راغب کرے۔
28۔ ہم نے یہ عہد کیا ہے کہ ہم پاکستان ریلوے کی تعمیر نو کریں گے اور اس کے شاندار ماضی کی بحالی کی بنیاد رکھیں گے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر ریلوے ایک جامع منصوبے پر کام کر رہے ہیں اور وہ بہت جلد اس منصوبے کو عوام کے سامنے لائیں گے۔ لیکن میں اس موقع پر اس کے مرکزی نکات آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا۔
(1) پارلیمنٹ کے ایک قانون کے ذریعے ہم ریلوے کو ایک کارپوریشن میں تبدیل کریں گے جبکہ نوکریوں کا تحفظ ہو گا اور شرائط ملازمت محفوظ رہیں گی۔
(2) ایک آزاد بورڈ آف ڈائریکٹرز ریلوے کے معاملات کو چلائے گا، جن کا انتخاب پیشہ ور افراد میں سے کیا جائے گا جن کا تعلق پبلک پرائیویٹ، انجیئرنگ، مینجمنٹ، اکاؤنٹینسی، فنانس، لاء اور پبلک ایڈمنسٹریشن سے ہوگا۔
(3) ریلوے بورڈ اور فیڈرل گورنمنٹ کی منظوری سے ریلوے انتظامیہ ایسی پالیسیاں بنائے گی جس کے ذریعے ریلوے کے تمام اثاثے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی بنیاد پر مکمل طور پر زیر استعمال آسکیں اور اس کی آمدنی کو بڑھانے کا باعث بنیں۔
(4) ترقیاتی بجٹ میں ریلوے کا حصہ بتدریج بڑھایا جائے گا تاکہ وہ نئے انجن حاصل کرسکیں، ٹریک کو ڈبل کرسکیں، رولنگ سٹاکس میں اضافہ کرسکے۔ سگنلز سسٹم کو موثر بنا سکیں اور رابطوں کے ذریعے کو جدید طرز پر منظم کرسکیں۔ اگلے سال ہم نے ریلوے کے لئے 31 ارب روپے مختص کئے ہیں جو کہ اس سال کے نظرثانی تخمینے جو کہ 20 ارب روپے ہے اس سے خاطر خواہ اضافہ ہے۔
(5) ایسی Feasibility Studies پر کام شروع ہوگا جو پاکستان کو ایک جانب گوادر سے افغانستان تک ریل کے ذریعے ملائیں گے اور دوسری جانب گوادر کو چائنہ سے ملائیں گے۔
(6) حکومت جاپان کی مدد سے کراچی سرکلر ریلوے پراجیکٹ پر جلد کام کا آغاز کیا جائے گا۔
انسانی ترقی (Human Development)
جناب سپیکر!
29۔ کسی بھی قوم کے لئے اس کا حقیقی سرمایہ اس کے لوگ ہیں۔ در حقیقت یہ کہا جاتا ہے کہ اصل ترقی لوگوں کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ گو کہ اس کے کتنے ہی مظاہر ہمیں مادی ترقی میں نظر آئے۔ لہذا انسانی ترقی پر کئے جانے والے اخراجات کو ہمیں ایک ایسی سرمایہ کاری سمجھنا چاہیے جو ہماری مستقبل کی ترقی کی رفتار کو تیز تر بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔
30۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسانی ترقی کے تین اہم شعبے یعنی تعلیم، صحت اور بہبود آبادی 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل ہوگئے ہیں۔ لیکن اعلیٰ تعلیم، ریگولیٹری ذمہ داریاں اور بین الاقوامی رابطے ابھی بھی وفاقی حکومت کی ذمہ داریاں ہیں۔ انسانی وسائل کی ترقی کے لئے ہم جو اقدامات اٹھا رہے ہیں اس میں چند اہم اقدامات کا میں ذکر کرنا چاہوں گا۔
(1) 18 ارب روپے کی ایک خاطر خواہ رقم ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لئے مختص کی گئی ہے جو پاکستان بھر کی جامعات کے ترقیاتی پروگراموں پر خرچ کئے جائیں گے۔ میں یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ کرنٹ بجٹ میں ہم نے ایچ ای سی کے لئے 39 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ لہذا مجموعی طور پر ہائر ایجوکیشن کے لئے ہم 57 ارب روپے کے وسائل مہیا کر رہے ہیں۔
(2) یہ انذازہ ہے کہ ملک میں ہائر ایجوکیشن سے وابستہ طالب علموں کی تعداد 10 لاکھ 8 ہزار سے بڑھ کر 12 لاکھ 30 ہزار تک پہنچ جائے گی۔ جو اس تعداد میں 14 فیصد اضافہ ہے۔
(3) بیرونی سکالر شپ کی تعداد 4249 سے بڑھ کر اگلے سال 6249 ہو جائے گی۔ یعنی 2 ہزار اضافی سکالر شپ مہیا کی جائیں گی۔
(4) صوبوں کو منتقلی کے باوجود وفاقی حکومت قومی صحت کے منصوبوں کے لئے وسائل مہیا کر رہی ہے۔ اگلے سال اس سلسلے میں 21 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔
(5) اس میں شامل پروگراموں میں Immunization کا پروگرام (EPI)، قومی زچہ بچہ اور بچوں کی صحت سے متعلق پروگرام فیملی پلاننگ اور بنیادی صحت قومی پروگرام اور دیگر قومی پروگرام جو بیماریوں سے بچاؤ اور ان پر قابو پانے کے لئے شروع کئے گئے ہیں مثلاً اندھا پن، ٹی بی، ہیپاٹائٹس Measles اور AVN Influenza۔
(6) سب سے اہم بات یہ ہے کہ بہبود آبادی کے صوبائی پروگراموں کے لئے وفاقی حکومت کی طرف سے مدد اب بھی جاری ہے اور اگلے سال اس ضمن میں 8 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
صنعت اور علاقائی تجارت
جناب سپیکر !
31۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں ہماری صنعت کو پالیسی سازوں کی غفلت، ادارتی مدم کی عدم موجودگی، توانائی کے بحران، قرضوں کی عدم دستیابی، انفراسٹرکچر کی خستہ حالت، خراب طرز حکومت اور بے جا بوجھ ڈالنے والے ضابطوں جو صوبائی اور وفاقی حکومتوں میں یکساں پائے جاتے ہیں، کی وجہ سے سخت نقصان پہنچا ہے۔ یہ نہایت ہی ہم رکاوٹیں ہیں اور اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ نتیجتاً صنعتی سرمایہ کاری میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے اور صنعتی ترقی گزشتہ پانچ سال میں اوسطاً 1.8 فیصد رہی۔ اس شرح نمو سے ہمارے لئے یہ ممکن نہیں ہوگا کہ مجموعی قومی پیداوار میں 7 فیصد کا ہدف حاصل کریں جو کہ ہم نے اپنے 3 سالہ وسط مدتی فریم ورک میں رکھا ہے۔
32۔ ہمیں یہ احساس ہے کہ صنعتی شعبہ ملک کی معیشت میں نہ صرف مرکزی اہمیت کا حامل ہے بلکہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اس کی سب سے زیادہ اہمیت ہے۔ ہمارے منصوبے حقیقت پر مبنی نہیں ہوں گے اگر ہم نے صنعتی شعبے کو بحال نہیں کیا۔ میں اس موقع پر اس حوالہ سے اہم نکات کا اعلان کرنا چاہوں گا۔
(1) ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کی پالیسی کا از سر نو جائزہ لیا جائے گا اور اس میں دی گئی ترغیبات کو مزید پر کشش بنانے کے لئے مطلوبہ ترامیم کی جائیں گی۔
(2) صوبائی حکومتوں کے تعاون سے پورے ملک میں نئے صنعتی زون کی تعمیر کی جائے گی اور انہیں اس انداز سے بنایا جائے گا جس میں صنعتوں کو درکار تمام بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
(3) ہم نے اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی سپیشل اکنامک زون ایکٹ 2012 کی منظوری کیلئے اہم کردار ادا کیا تھا لیکن اس قانون کے ثمرات صرف اس صورت میں سامنے آئیں گے جب ہم اس پر حقیقی عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے۔ ابھی تک تو اس سلسلہ میں کچھ نہیں ہوا لہذا ہم اس قانون کو اس کی صحیح روح اور تحریر کے مطابق نافذ کریں گے اور اس کے پیچھے ہمارا مکمل عہد اور واضح سرپرستی شامل ہو گی۔
(4) ایک جامع منصوبے کے تحت ہم گوادر سپیشل اکنامک زون کی تعمیر کریں گے جو نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کی ترقی میں ایک سنگ میل کی حیثیت ثابت ہو گا۔ اس زون کو ہم پاکستان کے تمام اہم معاشی مراکز سے اور پاکستان کے پڑوسیوں سے جوڑیں گے۔ ہم گوادر کے ذریعہ سے پاکستان کو ایک ایسا علاقائی مرکز بنانا چاہتے ہیں جہاں سے بین الاقوامی تجارت چائنہ اور سینٹرل ایشیاء سے شروع ہو کر مغرب کی آخری حدود تک پہنچے گی۔ اگر پاکستان علاقائی تجارت کا صدر دروازہ بنتا ہے تو اس سے معاشی امکانات کی لامحدود راہیں کھلیں گی۔
(5) ہم اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہماری صنعتوں کو اضافی مارکیٹیں میسر آئیں اور ہماری علاقائی Terms of Trade بہتر ہوں۔
(6) حکومت کے وہ ادارے جو صنعت اور تجارت سے وابستہ ہیں ان کی تنظیم نو کی جائے گی تاکہ وہ ان مقاصد کے حصول میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
(7) میکرو اکنامک فریم ورک کے بہتر ہونے سے نجی شعبہ کیلئے قرضوں کی فراہمی میں اضافہ ہو گا۔
(8) نجکاری کے پروگرام کی تجدید نو کے نتیجہ میں نجی شعبہ میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور وہ ایسے نئے اثاثے چلانے کے قابل ہو جائیں گے جو اب تک پبلک سیکٹر میں چلتے رہے ہیں۔
ہاؤسنگ
جناب سپیکر!
33۔ ہر پاکستانی کا یہ حق ہے کہ اس کے سر پر ایک چھت ہو۔ بدقسمتی سے پاکستان میں Housing Gap تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ نجی شعبہ میں Building Developers نے امیر اور مڈل کلاس کے لئے اچھی سہولتیں مہیا کرنا شروع کر دی ہیں لیکن لوئر مڈل کلاس اور غریبوں کے لئے گھر تعمیر اور ملکیت اب بھی ایک خواب ہی ہے۔ ہم نے اپنے گذشتہ دور حکومت میں غریبوں کو گھر مہیا کرنے کا ایک پروگرام سارے ملک میں شروع کیا تھا۔ اس پروگرام کے تحت صوبائی حکومتوں نے زمین بغیر کسی لاگت کے مہیا کی تھی اور وفاقی حکومت نے تعمیراتی کام میں معاونت کی تھی لیکن بعد ازاں اس منصوبے پر قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔ وزارت ہاؤسنگ و ورکس ایک نئے منصوبے پر کام شروع کر رہی ہے جس کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں:
(1) جہاں ممکن ہوا سرکاری زمین پر تین مرلے ہاؤسنگ سکیم کا آغاز کیا جائے گا جہاں پر بے گھر لوگوں کو مفت پلاٹ تقسیم کئے جائیں گے۔
(2) Public Private Partnership کے ذریعہ 500 گھر فی کالونی پر مشتمل ایک ہزار کالونیاں بنائی جائیں گی جو کم آمدنی والے خاندانوں میں ایک شفاف طریقہ کار کے تحت تقسیم کئے جائیں گے۔
(3) گھروں کی تعمیر کے لئے قرضوں کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے حکومت نے Mark-up Cost کا ایک حصہ خود اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لئے موجودہ بجٹ میں 3.5 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
(4) پنجاب کی کامیاب آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کی طرح دیگر صوبوں میں بھی ایسی سکیمیں شروع کی جائیں گی۔
بجٹ کا تخمینہ
جناب سپیکر!
34۔ اب میں ایوان کے سامنے اگلے مالی سال کے لئے محاصل اور اخراجات کے تخمینے پیش کرتا ہوں۔
35۔ 2013-14ء کے لئے مجموعی محاصل کا اندازہ کا تخمینہ 3420 ارب روپے رکھا گیا ہے جو کہ اس سال کے نظرثانی شدہ تخمینے 2837 ارب روپے سے 21 فیصد زیادہ ہے۔ یہ محاصل میں ایک زبردست اضافہ ہے اور میں تقریر کے دوسرے حصہ میں اس کی مزید تفصیلات ایوان میں رکھوں گا۔
36۔ ان محاصل میں صوبوں کا حصہ 1502 ارب روپے ہے بمقابلہ اس سال کے نظرثانی شدہ تخمینہ جو 1221 ارب روپے ہے اور 23 فیصد اضافہ کی عکاسی کر رہا ہے۔ وفاقی حکومت کی خالص آمدنی 1918 ارب روپے ہے جو نظرثانی شدہ تخمینہ 1616 ارب روپے کے مقابلہ میں 19 فیصد اضافہ ہے۔ صوبوں کو وسائل کی منتقلی تاریخی سطح پر ہے ہمیں خوشی ہے کہ ہم وسائل کے ایک بڑے حصہ میں صوبوں کو شریک کر رہے ہیں کیونکہ نئے آئینی نظام کے تحت صوبائی ذمہ داریاں خصوصاً سماجی شعبوں سے متعلق نمایاں طور پر بڑھ گئی ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اس بڑے پیمانے پر وسائل کی منتقلی صوبائی حکومتوں کو اس قابل بنائے گی کہ وہ سماجی خدمات اور امن عامہ کی سہولتیں لوگوں کے دروازے تک پہنچا سکے۔ 
37۔ 2013-14ء کے لئے اخراجات کا اندازہ 3591 ارب روپے رکھا گیا ہے جو اس سال کے نظرثانی شدہ تخمینے 3577 ارب روپے کے مقابلہ میں ایک معمولی اضافہ ہے۔ یہ پہلا اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ موجودہ بجٹ سادگی کو فروغ دے رہا ہے جو کہ معیشت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ازبست ضروری ہے۔ Current Expenditure کا اندازہ 2829 ارب روپے رکھا گیا ہے جو کہ نظرثانی شدہ تخمینہ 2720 ارب روپے کے مقابلہ میں صرف 4 فیصد اضافہ کی عکاسی کرتا ہے لیکن ترقیاتی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے سرمایہ کاری کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے مقاصد کی وجہ سے ہم نے ترقیاتی اخراجات میں اضافی رقوم فراہم کی ہیں اس سال کے Budget Estimates جو کہ 360 ارب روپے ہیں کے مقابلہ میں اگلے سال کے ترقیاتی پروگرام کے لئے 540 ارب روپے مختص کئے ہیں جو کہ 50 فیصد زیادہ ہیں۔
38۔ وفاقی مالیاتی خسارہ 2013-14ء میں 1674 ارب روپے رہے گا بمقابلہ اس سال کے نظرثانی شدہ اندازے جو 1962 ارب روپے ہے۔ صوبوں سے 23 ارب روپے کا Surplus دینے کا اندازہ لگایا گیا ہے بمقابلہ 62 ارب روپے کا خسارہ جو وہ اس سال کر رہے ہیں لہذا مجموعی خسارہ 1651 ارب روپے رکھا گیا ہے بمقابلہ نظرثانی شدہ خسارہ جس کا اندازہ 2024 ارب روپے رکھا گیا ہے اس لحاظ سے Deficit کا تناسب مجموعی پیداوار سے 6.5 فیصد اگلے سال ہو گا بمقابلہ اس سال کے خطرناک حد تک بڑھے ہوئے 8.8 فیصد خسارے سے۔
جناب سپیکر!
39۔ یہ واضح ہے کہ ہماری حکومت ایک مضبوط معیشت کی بنیاد رکھ رہی ہے جو کہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہم آسان راستوں پر نہیں چل رہے بلکہ نامساعد حالات سے نبرد آزما ہونے کے لئے جس دور رس سوچ اور حکمت و دانش کی ضرورت ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ مالیاتی خسارے میں 2.5 فیصد کمی ایک سال میں کوئی معمولی ہدف نہیں ہے لیکن ہمیں یقین ہے کہ ہم اس کو حاصل کریں گے۔ (انشاء اللہ)
حصہ دوم
جناب سپیکر!
40۔ اب میں آپ کی اجازت سے ٹیکس تجاویز پر مبنی اپنی تقریر کا دوسرا حصہ پیش کرتا ہوں۔
41۔ بحیثیت قوم ہمیں ایسے فیصلے کرنے ہوں گے جن سے پاکستان اپنے وساء ل پر بھروسہ کرتے ہوئے قرضہ جات کو کم کر سکے اور قومی معاشی ترجیحات پر توجہ دے سکے۔
42۔ PML(N) کی حکومت ملک میں مجموعی طورپر اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ، سرمایہ کاری اور کاروبار کے لئے موزوں مواقع پیدا کرتی ہے۔ جیسا کہ ہم سب کو بخوبی علم ہے کہ کاروباری سرگرمیاں بڑھنے سے روزگار کے مواقع بڑھتے ہیں ملک میں بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے اور نتیجتاً ملک میں امن و امان اور خوشحالی قائم ہوتی ہے۔
جناب سپیکر!
43۔ ان مقاصد کے حصول کیلئے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان لوگوں پر مزید ٹیکس کا بوجھ نہ ڈالا جائے جو اپنے حصہ کا واجب الادا ٹیکس پہلے ہی ادا کر رہے ہیں۔ بلکہ ایسے اقدامات کئے جائیں جن سے وہ افراد جو کچھ بھی ادا نہیں کرتے وہ یقینی طور پر قومی خزانے میں کچھ نہ کچھ حصہ ڈالیں۔قومی اقتصادی صورتحال کی بہتری مسلم لیگ(ن) حکومت کی اولین ترجیح ہے جس کیلئے ٹیکس نظام میں بنیادی اور کلیدی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
جناب سپیکر!
44 ۔ مسلم لیگ (ن) کی پچھلی حکومت نے ٹیکس اور قومی مجموعی پیداوار کے تناسب (Tax to GDP ratio) کو 13 فیصد تک پہنچا دیا تھا جس کی وجہ ٹیکس قوانین کو آسان بنانا،ٹیکسوں کے دائرے کو توسیع دینا،نظام میں موجود خرابیوں کو دور کرنا اور ٹیکس مشینری کا موثر احتساب تھا۔ ان اصلاحات کو مسلم لیگ(ن) حکومت کی غیر قانونی اور آمرانہ برخواستگی کے ذریعے روک دیاگیا۔ نتیجتاً ٹیکسوں اور قومی پیداوار کے تناسب میں بتدریج تنزلی شروع ہوگئی اور اس وقت یہ خطرناک حد تک کم ہوکر9 فیصد پر ہے۔ 2013-14ء کے بجٹ کا بنیادی مقصد اس شرح کو بڑھا کر 2018ء تک 15 فیصد لے جانا ہے۔
جناب سپیکر!
45 ۔ ملک کو اس وقت جن شدید اقتصادی مسائل کا سامنا ہے وہ اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم اپنے اندرونی وسائل سے محاصل کو یقینی بنائیں اور بیرونی امداد اور قرضوں پر کم سے کم انحصار کریں۔ اس ضمن میں ہماری خود کفالت انتہائی ضروری ہے۔ملک اس وقت توانائی کے شدید بحران سے دوچار ہے ۔اس مسئلے کے حل اور ہمارے غریب عوام کی تکالیف کو دور کرنے کے لئے بھاری سرمائے کی ضرورت ہے۔
جناب سپیکر!
46 ۔ ہماری حکومت کی ٹیکس پالیسی کے چند رہنما اصول یہ ہیں۔ (i) ٹیکس ادا نہ کرنے والوں پر ٹیکس لگانا۔(ii )ٹیکس مشینری کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا۔(iii) ٹیکس نظام سے بے قاعدگیوں اور بگاڑ کا خاتمہ کرنا۔(iv) ٹیکس نظام کو آسان بنانا۔(v) ٹیکسوں کے دائرہ کار کو وسعت دینا۔(vi) ٹیکسوں کے شرح اور چھوٹ میں معقولیت پیدا کرنا۔(vii ) ٹیکس گزاروں کی سہولت اور ایف بی آر سے بدعنوانی اور کرپشن کا خاتمہ۔
جناب سپیکر!
47 ۔ ایک منصفانہ اور مساویانہ ٹیکس نظام بلاواسطہ ٹیکسوں پر زیادہ زور دیتا ہے تاکہ معاشرے کا اہل ثروت طبقہ زیادہ ٹیکس دے۔ بدقسمتی سے ہمارے ٹیکس نظام میں بالواسطہ ٹیکسوں کا بڑا حصہ ہوتا ہے جس سے عام آدمی پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھتا ہے۔ اس سال ٹیکس تجاویز میں ایک بنیادی نظریاتی تبدیلی لائی جارہی ہے اور زیادہ تر محصولاتی تجاویز بلاواسطہ ٹیکسوں سے متعلق ہیں۔
انکم ٹیکس
جناب سپیکر!
48 ۔اب میں انکم ٹیکس میں تجویز کردہ رعایتی اقدامات کی طرف آتا ہوں۔
49 ۔اس فنانس بل کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس میں متعدد رعایتی اقدامات تجویز کئے جارہے ہیں جن میں شامل ہیں۔
(1) مالی سال 2014-15ء سے زیادہ سے زیادہ کارپوریٹ ٹیکس کی شرح ایک فیصد سالانہ کے حساب سے کم کرتے ہوئے موجودہ شرح 35 فیصد کو30 فیصد کرنے کی تجویز ہے ۔اس اقدام سے ملک میں کارپوریٹ کلچر کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
(2) خصوصی اقتصادی خطوں میں انکم ٹیکس کی چھوٹ 5 سال سے بڑھا کر 10 سال کی جارہی ہے۔ اس سے ان خصوصی خطوں میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔
(3)صنعتکاروں کے لئے درآمدی خام مال پر چھوٹ کے سرٹیفکیٹ کی سہولت چند سال پہلے واپس لے لی گئی تھی جس سے Cash Flow پر منفی اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں زائد ادائیگیاں اور Refund بڑھ گئے۔ صنعت کے شعبے کی سہولت کے لئے درآمدی خام مال پر چھوٹ کے سرٹیفکیٹ کی سہولت دوبارہ متعارف کرائی جارہی ہے جو کہ مشروط ہوگی پچھلے دو سالوں میں سے کسی ایک سال کی ٹیکس ادائیگی سے جو بھی زیادہ ہو۔
(4)اس وقت مال بردار گاڑیوں پر سروسز اور انکم ٹیکس کی کم سے کم شرح لاگو ہے جو صوبائی موٹر وہیکل ٹیکس کی ادائیگی کے وقت ادا کیا جاتا ہے جو کہ حتمی ٹیکس ہے۔ اس سے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو دوہرا ٹیکس دینا پڑتا ہے جو غیر منصفانہ ہے۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے کی سہولت کے لئے صوبائی موٹر وہیکل ٹیکس کی ادائیگی کے وقت جمع کرایا جانے والا انکم ٹیکس Adjustableکیا جارہا ہے۔
(5) کم سے کم غیر ایڈجسٹ شدہ ٹیکس کو آگے لے جانے کی سہولت صرف کارپوریٹ شعبے تک محدود تھی جو غیر کارپوریٹ شعبے کے ساتھ تفریق تھی۔ تمام ٹیکس گزاروں کو یکساں مواقع فراہم کرنے کے لئے اس سہولت کو افراد اور جماعت اشخاص تک بڑھایا جارہا ہے۔
(6) اس طرح کم سے کم ٹیکس میں کمی کارپوریٹ شعبے میں صرف سگریٹ کے تقسیم کنندگان تک محدود تھی۔ اس شعبے میں جماعت اشخاص اور انفرادی حیثیت میں کام کرنے والے چھوٹے ٹیکس گزاروں سے امتیازی سلوک کی وجہ سے تخفیف شدہ کم سے کم ٹیکس کی سہولت افراد اور جماعت اشخاص تک بھی بڑھائی جارہی ہے۔
انکم ٹیکس دائرے کی وسعت
50 ۔ یہ تو ہم سب کو معلوم ہے کہ موجودہ ٹیکسوں کا دائرہ کار بہت تنگ ہے ۔ٹیکس اصلاحات میں سب سے اہم ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹیکسوں کا دائرہ کار ممکن حد تک وسیع کیا جائے اور ایسے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے جو ٹیکس ادا کرنے کے قابل ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ایسے لوگ جو رضاکارانہ ٹیکس ادا کرتے ہیں انہیں ایک معقول اور سادہ ٹیکس نظام دیا جائے۔ ان تمام مقاصد کے حصول کے لئے مندرجہ ذیل اقدامات کئے جارہے ہیں:
(1) شادی بیاہ اور دیگر تقریبات پر بھاری رقوم خرچ کی جاتی ہیں لیکن ان کی کوئی دستاویز بندی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے آمدن کا صحیح تخمینہ نہیں لگایا جاسکتا۔ ان اخراجات کی دستاویز بندی کیلئے ایک ایڈجسٹ ایبل ود ہولڈنگ ٹیکس متعارف کرایا جارہا ہے جو کہ ہوٹل/ کلب/ شادی ہال/ ریسٹورنٹ وغیرہ تقریب کا انعقاد کرنے والوں سے وصول کریں گے۔ ایڈجسٹ ایبل ٹیکس ہونے کی وجہ سے لوگوں کو انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرنے کی ترغیب ملے گی جس سے ٹیکسوں کے دائرہ کار کو وسعت دینے کا مقصد حاصل ہوسکے گا۔
(2)انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کو ہم آہنگ کرنے اور Fake Invoice کی حوصلہ شکنی کے لئے سیلز ٹیکس قانون کے تحت رجسٹرڈ تمام افراد کو خریداری،خدمات اور معاہدوں پر انکم ٹیکس کے لئے ود ہولڈنگ ایجنٹ بنایا جارہا ہے۔
(3) ٹیکس دہندگان کی طرف سے ٹیکس سے بچنے کے لئے انکم ٹیکس قوانین میں سہولیات اور چھوٹ کے استحصال کے لئے متواتر طور پر نقصان کے اعلان اور خزانے میں مساوی حصہ ڈالنے کے لئے کم از کم ٹیکس کی شرح 0.5 فیصد سے بڑھا کر 1 فیصد کرنے کی تجویز دی جاتی ہے۔
(4) تعمیراتی شعبہ اپنی استعداد سے غیر متناسب، قومی خزانے میں ایک ارب روپے جمع کراتا ہے۔ اس شعبے کا ٹیکس عموماً تعمیر کے دورانیے کے حساب سے کئی سالوں پر پھیلا ہوتا ہے۔ تعمیراتی شعبے پر ٹیکس کو آسان بنانے کے لئے عمارتی بلڈرز اور ڈویلپرز پر کم از کم ٹیکس تجویز کیا جاتا ہے۔ یہ ٹیکس تعمیر شدہ رقبے پر 50 روپے فی مربع فٹ اور Developed رقبے پر 100 روپے فی مربع گز لاگو ہوگا جیسا کہ حالات ہوں۔
(5 ) تنخواہوں پر ٹیکس کی پچھلے سال متعارف ہونے والی شرح نے متوسط تنخواہ دار طبقے کو زیربار کر دیا ہے۔ اس بے ضابطگی کو اس فنانس بل کے ذریعے درست کیا جا رہا ہے جس میں تنخواہوں پر ٹیکس کو ہر تنخواہ دار طبقہ کی استعداد کے حساب سے متناسب بنایا جا رہا ہے۔
(6) کاروباری اشخاص اور Association Of Persons (AOPs) پر ٹیکس کی شرح کو متناسب بنانے کے لئے دو نئے ٹیکس درجات اضافہ کرنے کی تجویز دی جاتی ہے۔ اس سے بتدریج اس شرح کو 25 لاکھ پر 25 فیصد سے بڑھا کر 60 لاکھ پر 35 فیصد تک لایا جا سکے گا۔
(7) Coproratization کے فروغ کے لئے غیر کارپوریٹ ٹیکس دہندگان مثلاً کاروباری درآمد، معاہدے، سپلائز اور سروسز کے لئے ودہولڈنگ ٹیکس کی علیحدہ شرح متعارف کرائی جا رہی ہے۔
(8) غیر ملکی فلموں اور ڈراموں کو ملکی سطح پر تقابلی بنانے کے لئے نیا Adjustable ود ہولڈنگ ٹیکس تجویز کیا جا رہاہے۔
9 تاجروں اور آڑھتیوں کو ٹیکس کے دائرے میں لانے کیلئے رجسٹریشن کی قسم کی بنیاد پر Withholding Tax متعارف کروایا جا رہا ہے۔ Adjustable Tax ہونے کی وجہ سے اس کو مارکیٹ کمیٹیاں ان تاجروں سے جمع کریں گی۔
10 اہل ثروت طبقے کو اخراجات کی بنیاد پر ٹیکس لگانے کے لئے کسی تعلیمی ادارے کو ادا کی جانے والی 200000 روپے تک سالانہ فیس 5فیصد تک withholding Adjustable Tax کی تجویز دی جا رہی ہے۔ 
11 تاجر حضرات GDPٖ میں اپنے حصہ کے تناسب سے ٹیکس کی ادائیگی نہیں کر رہے ہیں اس لئے پرچون فروشوں اور تھوک فروشوں سے مخصوص شعبوں میں Adjustable withholding Tax 0.5 فیصد اور 0.1 فیصد کی شرح سے وصول کرنے کی تجویز دی جا رہی ہے۔ تھوک کاروباری حضرات اور تاجروں Dealers کے لئے ٹیکس کی شرح 0.5 فیصد سے کم کر کے 0.1 فیصد کی جا رہی ہے یہ ٹیکس صنعت کار ، تقسیم کنندگان اور کاروباری درآمدکنندگان وصول کریں گے۔
12 زرعی شعبہ ٹیکس کی ادائیگی سے مستثنیٰ ہے لیکن اس سہولت کو ناجائز طور پرغیر زرعی آمدن کو زرعی آمدن کی آڑ میں چھپانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ قانون کے اس غلط استعمال کو روکنے کے لئے تجویز دی جاتی ہے کہ زرعی آمدن کا Credit صرف اس صورت میں دیا جائے اگر اس آمدن میں صوبائی انکم ٹیکس ادا کیا گیا ہو۔
13 بینکوں سے صارفین کے متعلق معلومات کے حصول کے لئے قانون کو بین الاقوامی طور پر رائج طریقہ کار سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد ایف بی آر موجود قومی Data Warehouse کو ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے کے لئے مستحکم کرنا ہے۔
14 ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے کے لئے FBR اور Nadra کی جمع کی ہوئی معلومات کو منظم طریقے سے استعمال کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں مالی لین دین کی بنیاد پر نشاندہی کئے گئے 500,000 افراد کی تفصیلی خاکے بنائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ٹیکس کی بنیاد وسیع کرنے کے لئے کاروباری جگہوں پر NTN کی نمائش لازمی کی جا رہی ہے۔ ان اقدامات سے ادارے کی پہنچ میں اضافہ ہوگا اور رضاکارانہ عملدرآمد کے کلچر کو فروغ مل گا۔
انکم ٹیکس سپورٹlevy ایکٹ کا نفاذ
جناب سپیکر! 
51 ہم سب لوگوں پر جن پر اﷲ تعالیٰ نے اپنا خاص کرم کیا ہے فرض ہے کہ وہ ان نادار لوگوں کی فلاح وبہبود کے لئے اپنا حصہ ڈالیں جو اتنے خوش قسمت نہیں ہیں۔ ہم میں سے زیادہ تر نے باہر کے ملکوں میں کام کرکے جائیدادیں بنائی ہیں مگر ملکی قوانین اور دوسرے ٹیکسوں سے بچاؤ کے معاہدوں کی وجہ سے معمولی سا ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ یقیناً ہمیں معاشرے کے نادرا طبقے کا بوجھ تقسیم کرنا ہوگا ملک کے غریب خاندانوں تک انکم سپورٹ پروگرام کو وسعت دینے کے لئے اضافی سرمائے کی ضرورت ہے۔ لہذا تجویز ہے کہ ایسے صاحب جائیداد لوگوں پر معمولی levy لاگو کی جائے۔ یہ levyکسی شخص کی ایک خاص دن پر قابل انتقال اراضی 0.5 فیصد کی شرح سے لاگو ہو جائے۔ اس مد میں حاصل ہونے والی رقم حکومت کے انکم سپورٹ پروگرام میں شامل کی جائے گی۔ اس کے علاوہ رضاکارانہ چندے کے ذریعے بھی اضافی سرمایہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ مجھے کہنے دیں کہ اس levy کا آغاز مجھ سے ہوگا اور میرے اندازے کے مطابق مجھے اس نیک کام میں اس مد میں آنے والے سال میں تقریباً 25 لاکھ روپے زائد جمع کروانا ہوں گے مجھے غریب اور نادار بہن بھائیوں کی فلاح وبہبود کے لئے حصہ ڈالنے پر خوشی ہوگی۔ 
سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی
جناب سپیکر!
52 سیلز ٹیکس کے دائرہ کار میں وسعت کے لئے متعدد اقدامات تجویز کئے جا رہے ہیں اور ایسے افراد کو ٹیکس نیٹ میں لایا جا رہا ہے جو اب تک اس سے باہر تھے۔ ہماری پالیسی یہ ہے کہ جو افراد غیر رجسٹرڈ رہیں گے ان پر ٹیکس کا بوجھ رجسٹرڈ افراد سے زیادہ ہو۔ اس حوالے سے تجویز یہ ہے کہ 
1 صنعتی اور کاروباری بجلی کے کنکشن رکھنے و الے غیر رجسٹرڈ افراد پانچ فیصد کی شرح سے اضافی سیلز ٹیکس عائد کیا جائے۔ رجسٹریشن کروا لینے کے بعد یہ اضافی ٹیکس ایسے افراد پر لاگو نہیں رہے گا۔
2 غیر رجسٹرڈ افراد کو کی گئی تمام قابل ٹیکس سپلائی پر مزید 2فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے تاکہ رجسٹریشن کی حوصلہ افزائی ہو اور رجسٹرڈ ہونے کی صورت میں انہیں یہ بوجھ برداشت نہ کرنا پڑے۔
3 اب سے سیلز ٹیکس ود ہولڈنگ ایجنٹ ایسے غیر رجسٹرڈ افراد سے خریداری پر مکمل رقم ود ہولڈنگ کریں گے۔
4 متعدددرآمدتی اقدامات تجویز کئے جا رہے ہیں جن سے ٹیکس مشینری کی صلاحیت اور عملدرآمد کی استعداد کار میں اضافہ ہوگا۔ یہ اقدامات کچھ اس طرح سے ہیں۔
5 ایسے شعبے جن میں ٹیکس چوری کے امکانات زیادہ ہیں وہاں پر تمام پیداواری مراحل کی وڈیو لنک سے الیکٹرانک مانیٹرنگ /نگرانی کی جائے بشمول ٹیکس سٹیمپ، لیبل، الیکٹرانک سراغ رسائی وغیرہ، ایسے شعبوں سے انسانی مداخلت کے بغیر موثر نگرانی کے ذریعے شفاف، خود کار اور غلطیوں سے مبرا طریقہ کار کے تحت ٹیکس وصولی ممکن ہوسکے گی۔
6 FBR نے پہلے ہی Crest کے نام سے ایک جدید کمپیوٹرائزڈ نظام تیار کیا ہوا ہے جس سے پچھلے دنوں ٹیکس سیکٹر سے اربوں روپے کی نشاندہی اور وصولی میں مدد ملی ہے۔ اس نظام کی استعداد کار کو مزید بڑھایا جائے گا اور اسے وسعت دی جائے گی تاکہ دیگر شعبہ جات سے محصولات کے ضیاع کی نشاندہی اور وصولی ہوسکے۔
7 یہ بھی تجویز دی جاتی ہے کہ غیر قانونی ریفنڈر اور Ajustment input Tax کے ذریعے جعلی اورFlying Invoices کی روک تھام کے لئے ایک سہل اور مرکزی نظام متعارف کیا جائے تاکہ جعلی رجسٹرڈ افراد کو ٹیکس فراڈ کرنے سے روکا جاسکے۔
8 قابل ٹیکس سرگرمیوں کی مناسب نگرانی کے لئے رجسٹرڈ افراد کی رجسٹریشن عملداریوں میں رکھی جائے گی جہاں ان کی کاروباری جائیداد واقع ہو۔ 
9 معاشی ذرائع کی سنگین کمی کے پیش نظر ضروری ہے کہ اضافی ذرائع کا بندوبست کیا جائے۔ لہذا تجویز ہے کہ سیلز ٹیکس کی معیاری شرح 16فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کر دی جائے۔
10 بین الاقوامیTenders کے تحت supplies پہلے زیرو rated ہوا کرتی تھِیں لیکن انہیں 2012ء میں میں استثنیٰ دیا گیا تھا تاکہ ریفنڈز کی تخلیق اور اس سے منسلک بدعنوانیوں کی روک تھام ہوسکے لیکن اس اقدام سے مقامی کاروباری حریفوں کے لئے مشکلات پیدا ہوگئیں کیونکہ اب مزید input Tax adjustment کا دعویٰ نہیں کر سکتے تھے چنانچہ غیر ملکی ٹینڈرز کے لئے مقامی اور غیر ملکی کاروباری حریفوں کو مساوی مواقع کی فراہمی کے لئے یکساں ٹیکس نظام کے تحت اس عدم مساوات کو ملکی وغیر ملکی دونوں کاروباری حریفوں کے لئے دور کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 
11 مقامی supplies پر زیرو rated سیلز ٹیکس سے عدم مساوات پیدا ہوتی ہے جن سے بے قاعدگیاں ممکن ہوتی ہیں لیکن چونکہ ان میں سب سے زیادہ تر اشیاء عام آدمی کے زیر استعمال رہتی ہیں اس لئے ان اشیاء پر سیلز ٹیکس نافذ نہیں کیا جا رہا اور ان کو سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ کیا جا رہا ہے۔
12 third Schedule کی اشیاء ی فہرست کو سیلز ٹیکس ایکٹ تک وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس سے نہ صرف صنعتکاروں اور درآمدکنندگان کو استعمال کی اشیاء پر خوردہ قیمت لکھنا پڑے گی بلکہ غیر رجسٹرڈ آڑھتیوں اور پرچوں فروشوں کے فائدے کی بجائے حکومت کو پرچون کی سطح پر ٹیکس حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
13 جن پانچ برآمدی شعبوں کیلئے مقامی سپلائز کی صفر شرح کو پچھلے دنوں ختم کرنے کے تخفیف شدہ شرح کے تحت لایاگیا ہے وہ پچھلے سال سے یہ سہولت حاصل کر رہے تھے لیکن دو فیصد کی یہ تخفیف شدہ شرح قیمتی سال سے یہ سہولت بڑانڈز ملبوسات ، چمڑے کے بیگ اور کھیلوں کے سامان پر بھی لاگو کی جا رہی تھی۔ چند تخفیف شدہ شرح والی اشیاء کو دیگر صنعتوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جس سے بے قاعدگیاں جنم لے رہے ہی تھیں۔ ان مسائل کے تدارک کے لئے تیار مال اور متنوع استعمال کی اشیاء کو اس تحفیف شدہ شرح کے نظام سے نکالاجا رہا ہے۔
(14) اس وقت کے حالات کے تناظر میں 2010ء میں قبائلی علاقہ جات اور خیبر پختونخوا کے چند اضلاع مین ڈیوٹیوں اور ٹیکسز میں ایک عمومی استثنیٰ دیا گیا تھا۔ یہ استثنیٰ وقتی تھا اور اب انکم ٹیکس کے اس استثنیٰ کی معیاد ختم ہو چکی ہے لیکن سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز کے استثنیٰ کے نوٹیفیکیشن میں معیاد کے خاتمے کی کوئی شق نہیں تھی۔ اس جاری استثنیٰ سے بے قاعدگیاں پیدا ہو رہی تھیں اور دیگر علاقوں میں کاروبار کیلئے دشواریاں پیدا ہو رہی تھیں۔ اس لئے ان کو واپس لینے کی تجویز دی جا رہی ہے۔
(15) فیڈرل ایکسائز کے ضمن میں خوردنی تیل اور گھی کے تیار کنندگان بے ضابطگی کی شکایت کرتے رہے ہیں جہاں مقامی طور پر پیدا شدہ تیل اور درآمدی تیل کے بیج کے استعمال کنندہ کوئی ٹیکس نہیں دے رہے تھے۔ اس بے ضابطگی کو دور کرنے کے لئے مقامی طور پر پیدا ہونے والے خوردنی تیل اور درآمدی تیل کے بیجوں پر درآمد شدہ خوردنی تیل کے مساوی ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے۔
(16) بینکوں اور غیر بیکنگ شعبہ کی مالی خدمات پر اس وقت فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لاگو ہے لیکن دیگر افراد کی طرف سے ان خدمات کی فراہمی پر کوئی ڈیوٹی لاگو نہیں ہے اس بے قاعدگی کو دور کرنے کے لئے بینکنگ اور نان بینکنگ شعبہ جات کے علاوہ دیگر افراد کی طرف سے ان مالی خدمات کی فراہمی پر بھی مساوی شرح سے FED لاگو کی جا رہی ہے۔
(17) اس وقت درآمد شدہ خوردنی تیل پر ٹیکس لاگو ہے لیکن کینولا کا بیج بغیر ٹیکس درآمد کیا جا رہا ہے۔ یہ صرف ایک بے قاعدگی ہی نہیں بلکہ اس سے مقامی خوردنی تیل کے بیج کی پیداوار بھی متاثر ہو رہی ہے۔ اس فرق کو دور کرنے کیلئے درآمدی کینولا بیج پر 400 روپے فی میٹرک ٹن ڈیوٹی لگائی جا رہی ہے۔ حکومت کا یہ بھی عزم ہے کہ صنعت کی مشاورت سے طریقہ کار کو آسان بنایا جائے تاکہ سب کیلئے آسانیاں پیدا ہوں۔
(18) سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو آسان بنانے اور تشکیل نو کرنے کے لئے ایک مرکب فارمولے پر مبنی 3 درجہ بندیوں کی بجائے مخصوص شرح پر مبنی 2 درجات کی تجویز ہے۔
(19) ہوا شامل کئے ہوئے مشروبات کی صنعت کو ان کی استعداد کی بناء پر یا فکسڈ ٹیکس ادا کرنے کی اجازت دینے کی تجویز دی جاتی ہے۔ اس سے نہ صرف انہیں سہولت ملے گی بلکہ انہیں قومی خزانے میں ایک کثیر رقم جمع کرانے میں مدد ملے گی۔ اس سے بدعنوانی کا خاتمہ ہوگا اور نظام کو مزید شفاف اور واضح بنایا جا سکے گا۔ اس سے صنعت کو وسعت دینے کی بھی ترغیب ملے گی۔ اس نئے نظام کے نفاد کے لئے نوٹیفیکیشن جلد جاری کیا جائے گا۔
کسٹمز
جناب سپیکر!
53 مجھے کہنے دیجئے کہ پاکستان میں درآمدات کا نظام پچھلی کئی دہائیوں سے تخصیصی چھوٹ اور رعایتوں کے ایک پیچیدہ سلسلہ سے دوچار ہے۔ ہر سال اس چھوٹ کی وجہ سے قومی خزانے کو 100 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ آج کی آزاد تجارت اور یکساں مواقع کی دنیا میں یہ سلسلہ زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ ہمیں ایس آر او کلچر کا خاتمہ کر کے ایک سادہ ٹیکس اور محصولات کے نظام کو اپنانا ہوگا۔
54 اس دیرینہ مسئلہ کے حل کے لئے چیئرمین ایف بی آر کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے۔ یہ کمیٹی محصولات کو معقول بنانے اور رعایتی نظام کو کم سے کم کرنے کے لئے تمام Stakeholders سے مشاورت کے بعد اپنی رپورٹ مکمل کر کے سفارشات ای سی سی کو پیش کرے گی۔
55 پورے ملک میں بجلی کی کمی ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ بجلی کی پیداوار اور سپلائی بڑھانے کیلئے جہاں دیگر متعدد اقدامات کئے جا رہے ہیں وہیں دوبارہ قابل استعمال توانائی کے استعمال پر منتقلی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس ضمن میں موجودہ بجٹ میں متعدد ایسے اقدامات تجویز کئے جا رہے ہیں جن سے متبادل توانائی کے ذرائع استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ ان میں شمسی اور پون توانائی کی مشینری کی ڈیوٹی فری درآمد کے طریقہ کار کو آسان بنانا شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ توانائی کی بچت کے آلات جیسے انرجی سیونگ ٹیوبز، شمسی توانائی سے چلنے والے پانی کے پمپس وغیرہ کو بھی مستثنیٰ کیا جا رہا ہے۔
56 موجودہ اقتصادی صورتحال کے باوجود پاکستان کے تکلیف میں مبتلا عوام کو ہرممکن سہولت پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ صاف پانی کی فراہمی ہر پاکستانی کا بنیادی حق ہے۔ پانی کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں کے صاف پانی کے ذریعے تدارک کے لئے پانی کی فلٹریشن کے سامان پر کسٹم ڈیوٹی کی شرح کم کی جا رہی ہے۔
57 درآمد شدہ POL مصنوعات کا توانائی حاصل کرنے کے بڑے ذریعے کے طور پر استعمال نے نہ صرف درآمد کا خرچ بڑھا دیا ہے بلکہ ماحول پر بھی ایک منفی اثر مرتب کیا ہے۔ چنانچہ متبادل توانائی کا بہتر استعمال کرنے والی Hybrid برقی گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لئے تجویز دی جاتی ہے کہ 1200 cc تک Hybrid Electric Vehicles کو ڈیوٹی اور ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ 1200 cc سے 1800 cc تک ڈیوٹی اور ٹیکس میں 50 فیصد تک رعایت جبکہ 1800 cc سے 2500 cc تک کیلئے 25 فیصد رعایت تجویز کی جاتی ہے۔
58 چھالیہ اور پان کے پتے صحت کے لئے مضر ہیں۔ ان کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لئے ان دونوں اشیاء پر کسٹم ڈیوٹی میں اضافہ تجویز کیا جاتا ہے۔
جناب سپیکر!
59 تجویز کردہ ٹیکس اقدامات ملک کی معاشی صورتحال کے پیش نظر نہایت اہم ہیں۔ ان سے ہمیں مالی خسارے سے نکلنے اور بیرونی امداد پر انحصار ختم کرنے میں مدد ملے گی لہذا خودکفالت کی طرف یہ ایک اہم قدم ہوگا۔
حصہ سوم
نوجوانوں کیلئے نئے پروگرام
جناب سپیکر!
60 وزیرعظم صاحب نے ہماری الیکشن Campaign کے دوران نوجوانوں کی فلاح کے لئے کام کرنے کا پختہ وعدہ کیا تھا۔ ہماری آبادی کے تمام طبقات میں سے نوجوان وہ طبقہ ہے کہ جن کو کبھی مایوسی اور ناامیدی کا شکار نہیں ہونے دیا جا سکتا۔ ہم نے اپنے وعدے کی تکمیل کے لئے مندرجہ زیل پروگراموں کی تشکیل دی ہے:۔
(1) وزیراعظم کا یوتھ ٹریننگ پروگرام (PM`s Youth Training Program):مستقبل کے لحاظ سے نوجوانوں میں سب سے زیادہ غیر محفوظ وہ نوجوان ہیں کہ جنہوں نے 16 سالہ تعلیم حاصل کی لیکن ان کو کوئی اچھی نوکری نہ مل رہی ہو۔ صرف اس وجہ سے کہ ان کے پاس تجربہ اور ٹریننگ نہیں ہے۔ وزیراعظم صاحب کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ حکومت ان پڑھے لکھے نوجوانوں کا ہاتھ تھام کر ان کی زندگی میں یقین محکم دے۔ اسی لئے انہوں نے یہ ہدایات دی ہیں کہ ان نوجوانوں کے لئے حکومتی دفاتر، سرکاری کارپوریشنوں اور دیگر حکومتی مراکز میں ایک جامع سکیم تربیت دی جائے۔ وہ تمام نوجوان جنہوں نے 16 سالہ تعلیمی ڈگری حاصل کی ہوئی ہے اور جن کی عمر 25 سال سے کم ہے وہ اس سکیم میں شمولیت کے حقدار ہوں گے۔ اس سکیم کے تحت ایک سالہ ٹریننگ پروگرام ترتیب دیا جائے گا کہ جس کے دوران یہ نوجوان 10 ہزار روپے ماہانہ وظیفے کے حقدار ہوں گے۔ وزارت تعلیم ٹریننگ اور اعلیٰ تعلیمی معیار اس سکیم کو عملی جامہ پہنائے گی۔ سکیم کے تحت دلچسپی رکھنے والے نوجوان On-line اپنی اپنی درخواستیں جمع کروائیں گے۔ اور ان کی تعلیمی اسناد کی تصدیق بھی ایچ ای سی بھی On-line ہی کرے گی۔ مجھے یقین ہے کہ اس سکیم کے ذریعے نوجوانوں کو بہت کارآمد ٹریننگ ان کے گھروں کے نزدیک دی جائے گی کہ جو ان کیلئے ملازمت کا حصول آسان بنا دے گی۔
(2) وزیراعظم کا نوجوانوں کے لئے ہنر سکھانے کا پروگرام (PM`s Youth Skills Development Program) اس پروگرام کے تحت 25 سال سے کم عمر اور کم سے کم مڈل پاس 25,000 نوجوانوں کو ملک بھر کے 25 مختلف ہنر سیکھنے کا موقع دیا جائے گا۔ National Vocational & Technical Training Authority (NAVTEC) صوبائی TEVTA کے ساتھ مل کر اس سکیم کا انتظام کرے گی۔ اس سکیم کے تحت منتخب نوجوانوں کو 6 مہینے کے لئے ہنر سیکھایا جائے گا جس کی فیس حکومت ادا کرے گی۔ اس سکیم کے تحت وہ ہنر قابل ترجیح ہوں گے جن کی مانگ بیرونی ممالک میں زیادہ ہے۔ یا وہ کہ جن کے ذریعے نوجوانوں کے Self Employment کا موقع ملے ۔
(3) چھوٹے کاروباری قرضوں کی سکیم (Small Business Loan Scheme) اس سکیم کے تحت نوجوانوں کو چھوٹے کاروباری شروع کرنے کے لئے قرضوں کی سہولت مہیا کی جائے گی۔ قرضوں کی حد ایک لاکھ سے 20 لاکھ روپے تک ہوگی اور مارک اپ (MARK-UP) 8 فیصد ہوگا اور بقایا حکومت خود ادا کرے گی ۔ ابتدائی ایک سال میں 50 ہزارنوجوانوں کو قرضے مہیا کئے جائیں گے۔
(4) وزیراعظم کی لیپ ٹاپ سکیم : نوجوان کی Information & Communication Technology تک رسائی کو فروغ دینے کے لئے یہ فیصلہ کیاگیا ہے کہ اعلی تعلیم حاصل کرنے والے ذہین نوجوانوں کو لیپ ٹاپ مہیا کئے جائیں گے وہ تمام طالب علم جو کہہ کسی بھی HEC کی منظورشدہ یونیورسٹی یا تعلیمی ادارے میں اعلی تعلیم حاصل کررہے ہوں گے اس سکیم میں شامل ہونے کے حقدار ہوں گے لیپ ٹاپ کومہیا کرنے کا معیار HEC ترتیب دے گی جس کا اعلان بہت جلد کردیاجائے گا۔
(5) کم ترقی یافتہ علاقوں کے طالب علموں کیلئے فیس ادائیگی کی سکیم Fee Payment Scheme For Students Of Less Developed Areas : اس سکیم کے تحت کم ترقی یافتہ علاقوں کے وہ طالب علم جو کہ کسی پبلک سیکٹر یونیورسٹی میں Masters یا Doctorate کی تعلیم حاصل کررہے ہیں ان کوحکومت کی طرف سے ٹیوشن فیس کی ادائیگی کی سہولت فراہم کی جائے گی ۔ اس وقت یہ سہولت بلوچستان‘ فاٹا اورگلگت بلتستان کے طالب علموں کو حاصل ہے کوئی ایسی وجہ نہیں ہے کہ یہ سہولت دیگر پسماندہ علاقوں تک نہ پھیلائی جائے جیسا کہ اندروں سندھ اور جنوبی پنجاب کی ملتان‘ بہاولپور اورڈی جی خان ڈویژنز جو کہ یکساں طورپر پسماندہ ہیں ۔ چنانچہ اگلے مالی سال سے ان علاقوں کے طالب علموں کو بھی حکومت کی طرف سے ٹیوشن فیس کی ادائیگی کی سہولت میسر ہوگی۔
(6) وزیراعظم کی Micro Finance سکیم : اس سکیم کے تحت ہمارے مرد اور خواتین کو بہت چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے لئے بہت چھوٹی مقدار کے قرضے فراہم کیے جائیں گے اس سال پانچ ارب روپے کی لاگت سے قرضہ حسنہ کی یہ سکیم شروع کی جارہی ہے جو کہ بلامارک اپ ہوگی یہ قرضے مختلف Micro Finance مہیا کرنے والے اداروں کے ذریعے فراہم کی جائے گی جن میں اخوت‘ NRSP اور صوبائی RSPS شامل ہیں اس سکیم سے استفادہ حاصل کرنے والوں میں 50 فیصد خواتین ہوں گی۔
(7) Prime Ministers Housing Finance Scheme میں اس سکیم کے تحت Mortgage کا تناسب 15 لاکھ سے 50 لاکھ روپے تک ہوگا جو کہ 8 فیصد مارک اپ پر دیاجائے گا اور بقیہ مارک اپ حکومت خود برداشت کرے گی ۔ 50 ہزارلوگوں کو اس سکیم سے فائدہ حاصل ہوگا۔
بہتر طرز حکمرانی 
جناب سپیکر :
61 اس سے پہلے کہ میں پہلے حصے کی بجٹ تجاویز مکمل کروں میں ایک تاریخی فیصلے کا اعلان کرنا چاہتا ہوں جو جناب وزیراعظم محمد نوازشریف نے کیا ہے اس کا تعلق عوامی نمائندوں کی سفارش پر کی جانے والی ترقیاتی سکیموں سے ہے جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ اس سلسلے میں دو پروگرام چل رہے تھے یعنی PWP-I-PWP-II- اور PWP-I ایک قدیم پروگرام ہے اوراس پر عملدآرمد سے متعلق واضح اصول وضع کئے گئے ہیں اوراس کے ذریعے بلاامتیاز تمام عوامی نمائندوں کو چھوٹی چھوٹی ترقیاتی سکیموں سے متعلق سفارشات دینے کا حق ہوتا ہے یہ پروگرام جاری رہے گا اوراس کا نیا نام تعمیر وطن پروگرام ہوگا جو بالکل غیرسیاسی ہوگا دوسرا پروگرام بغیر کسی اصول اور ضابطے کے چل رہا تھا جس میں صرف اور صرف وزیراعظم کی ذاتی صوابدید پسند اور ناپسند کا دخل تھا پہلے پروگرام کے لئے 5 ارب روپے مختص تھے جبکہ اس سال دوسرے پروگرام میں ابتدا 22 ارب روپے رکھے گئے تھے لیکن پھر اسے بڑھا کر 47ارب روپے کردیاگیا اور بلآخر یہ 42ارب روپے کے اخراجات پر اس سال ختم ہورہا ہے ۔ اتنی خطیر رقم بغیر کسی قسم کے اصولوں کووضع کئے خرچ کرنا اچھے طرز حکمرانی کے خلاف ہے ہم بہتر طرز حکمرانی کا عوام سے وعدہ کرکے اس ایوان میں آئے ہیں لہذا یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس نوعیت کے اخراجات کا فی الفور خاتمہ ہو اورس سے بچنے والے وسائل عوام کی فلاح وبہبود کے لئے بہتر منصوبوں پر خرچ کیے جائیں ۔ لہذا وزیراعظم صاحب نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ PWP-II کی طرز کا پروگرام ختم کردیاگیا ہے ۔
جناب سپیکر :
62۔ یہ فیصلہ اس نئے طرز حکومت کا مظہر ہے جو ہماری حکومت اس ملک کو عزت اورافتخار کے ساتھ دنیا میں آگے لیکر جانے کے لئے اپنائے گی۔
63 حالیہ دنوں میں قوم کے سامنے یہ افسوسناک بات آئی ہے کہ سیکریٹ سروس اخراجات کے نام پر وزارتوں اور محکموں کی ایک طویل فہرست ہے جو ایسے اخراجت سے متعلق آڈٹ کے دائرہ کار سے بالا ہے حالانکہ یہ غیر معمولی استثنی صرف اور صرف قومی سلامتی سے وابستہ ایجنسیوں کیلئے وضع کیا گیا تھا ہم نے فوری طورپر اس صورتحال کا نوٹس لیا اور یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس طرح کا کوئی بھی خرچہ قومی سلامتی سے وابستہ ایجنسیز کے علاوہ کوئی نہیں کرسکتا اس ضمن میں وزارت خزانہ نے گزشتہ روز باضابطہ ہدایات جاری کردی ہیں جس کے تحت اس طرح کے تمام اخراجات عمومی طورپر ختم کر دیئے گئے ہیں اور جو بھی رقوم رہ گئی وہ واپس مانگ لی گئی ہیں اور اگلے مالی سال کے لئے ایسی تمام رقوم منسوخ کردی گئی ہیں اس ضمن میں قانون اور ضابطوں میں مطلوبہ ترامیم کی جارہی ہیں۔
VVIP کلچر کی حوصلہ شکنی 
64۔ 1997 ء میں وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے VVIPS کو ذاتی استعمال کے لئے پرتعیش گاڑیوں کی ڈیوٹی اورٹیکس فری درآمد پر دی گئی چھوٹ واپس لے لی تھی نتیجاً میرے اعلان کردہ Import Policy Order1998 اور Import – Export Procedure کی انٹری نمبر 1.15 حذف کردی گئی تھی جو کہ ایسی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دیتی تھی ۔ تاہم بدقسمتی سے 2005ء میں اس شق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوبارہ چھوٹ دی گئی ہماری حکومت بغیر کسی رعایت کے گاڑیوں کی ایسی ڈیوٹی اور ٹیکس فری درآمد پر دوبارہ پابندی عائد کررہی ہے ۔
اخراجات میں کفایت شعاری کے اقدامات 
جناب سپیکر:
65ہم مشکل حالات سے گزر رہے ہیں لہذا ہم پرلازم ہے کہ جس حد تک بھی ممکن ہو ہم اپنے اخراجات میں کمی کریں۔ کفایت شعاری کی خاطر ہم نئے بجٹ میں مندرجہ ذیل اقدامات اٹھا رہے ہیں۔
(1) ہماری نظر میں وقت کی اہم ترین ضرورت حکومت کے بے جا پھیلاؤ کو روکنا ہے لہذا ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم وزارتوں کی تعداد 40سے کم کرکے 28پر لارہے ہیں ہمیں معلوم ہے کہ یہ تعداد اس حد سے کم ہے جو آئین میں متعین کی گئی ہے یعنی 41 وزارتوں کی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم جس لمحے سے گزر رہے ہیں اس کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم سادگی کفایت شعاری اور اخراجات میں کمی کا راستہ اپنائیں اور یہی سوچ اس فیصلے کے پیچھے کارفرما ہے۔
(2) اخراجات میں کفایت شعاری کا عمل خود جناب وزیراعظم اپنے دفتر سے شروع کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں انہوں نے اپنے دفتر کے لئے مختص رقوم میں خاطر خواہ کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم آفس کے نظرثانی شدہ اخراجات کے تخمینے جو 725 ملین روپے ہے اگلے سال کے بجٹ میں اسے 45 فیصد کم کرکے 396 ملین روپے کر دیا گیا ہے۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ وزیراعظم ہاؤس سے متعلق تنخواہوں اور مراعات کے علاوہ دیگر اخراجات میں 44 فیصد کی کمی کی جارہی ہے۔
(3) سوائے واجب (Obligatory) اخراجات کے یعنی قرضوں کی واپسی، دفاع، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور مراعات، سبسڈیز اور گرانٹس کے علاوہ تمام اخراجات پر وزیراعظم کے اعلان کے مطابق 30 فیصد کی کٹوتی کی جارہی ہے۔ جس سے 40 ارب روپے کی بچت ہوگی۔
(4) نئی کاروں کے خریدنے پر مکمل پابندی ہوگی سوائے ایسی گاڑیاں جو قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ترقیاتی منصوبوں کے لئے ناگزیر ہوں گی۔
(4) وزراء کے لئے مختص صوابدیدی گرانٹ کو ختم کر دیا گیا ہے۔
ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور عوام کے لئے مراعات
جناب سپیکر!
66۔ باوجود یہ کہ ہم اخراجات میں کفایت شعاری کو اپنا رہے ہیں لیکن ہمیں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی تکالیف کا احساس ہے۔ لہذا ان کے لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کی پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا اور کم سے کم پنشن جس کی موجودہ شرح 3000 روپے ہے اسے بڑھا کر 5000 روپے کر دیا گیا ہے۔
رمضان پیکج
67۔ عوامی ریلیف کی خاطر ہم نے رمضان کے مقدس مہینے میں یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے اہم اشیاء کی قیمتوں میں رعایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان اشیاء میں چینی، آٹا، چاول، گھی، تیل، دال، چنا، بیسن، کھجوریں، مختلف مشروبات، دودھ، چائے اور متعدد مصالحہ جات شامل ہیں۔ اس مقصد کے لئے ہم نے اگلے بجٹ میں 2 ارب روپے کی رقم مختص کی ہے۔
اختتامی کلمات
جناب سپیکر!
68۔ جیسا کہ میں نے ابتدا میں عرض کی تھی کہ ہمیں ورثے میں ایک ٹوٹی پھوٹی معیشت مل رہی ہے لیکن ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم اس کی بحالی اور تعمیر نو کا چیلنج بالکل سامنے سے قبول کریں گے ہم مسائل سے پہلو تہی کا راستہ اپنائیں گے اور نہ ہی اپنے سروں کو ریت میں چھپائیں گے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ عظیم مقاصد کو ان کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور مشکلات کو عبور کئے بغیر حاصل کیا جاسکے۔ لہذا ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک ایسے راستے کا انتخاب کیا ہے جو مصائب اور مشکلات کا حامل ہے لیکن اگر اسے عبور کر لیا جائے تو ہماری منزل خوشحالی اور ترقی ہے، ایسی خوشحالی اور ترقی جو ممکنات کی دنیا اور ہم میں موجود استعداد سے مطابقت رکھتی ہو۔
69۔ مجھے ایسا ہی ایک سبق اپنے عظیم قائد محمد علی جناح کی زندگی میں نظر آتا ہے جب وہ اپنی صحت کو درپیش خطرات کو پس پشت ڈال کر ڈھاکہ پہنچے اور وہاں بڑھی ہوئی اس بے چینی کو دور کیا جو ایک نوزائیدہ مملکت کو درپیش تھی۔ اپنی ایک طویل لیکن روح پرور اور ولولہ انگیز تقریر جو انہوں نے ایک بہت بڑے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے 21 مارچ 1948 ء کو کی ۔ اس کے اختتام پر انہوں نے فرمایا:
’’آخر میں، میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ یکجا ہو
جائیں ۔ تکالیف کو، قربانیوں کو اور مشکلات کو برداشت کریں۔
اپنے عوام کی اجتماعی مفاد کیلئے۔ مشکلات کی کوئی حد سخت 
محنت کی کوئی انتہا اور قربانیوں کا کوئی حصہ ملک اور ریاست کی
جموعی فلاح کیلئے کافی نہیں۔ صرف اسی طرز عمل پر چلتے 
ہوئے آپ کیلئے یہ ممکن ہوگا کہ پاکستان کو دنیا کی
پانچویں بڑی ریاست بنا سکیں، صرف آبادی کے لحاظ سے
نہیں، جیسا کہ ابھی ہے لیکن قوت میں۔ تاکہ اقوام عالم میں
پاکستان عزت اور افتخار کا مقام حاصل کرسک۔‘‘
70۔ حیرت انگیز طور پر میں نے دیکھا کہ علامہ اقبال جو تصور پاکستان کے بانی ہیں ، انہوں نے بھی ایک ایسا پیغام ہمارے لیے چھوڑا ہے۔ جب انہوں نے اپنے شعر میں ہماری صلاحیتیں اور استعداد کو بیان کیا۔
عجب نہیں کہ بدل دے اسے نگاہ تیری
بلا رہی ہے تجھے ممکنات کی دنیا
71۔ آئیے! ہم سب مل کر قائد اعظم اور علامہ اقبال کے بتائے ہوئے راستوں پر سفر کا آغاز کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہوگا۔
پاکستان پائندہ باد

One comment

  1. Mrs Diana Lopez

    برائے توجہ: سر / سے Mam

    ہم قرض، BG، SBLC، ایم ٹی این، بانڈ، پی او ایف، LC، SKR بنائی، پروجیکٹ فنڈنگ، کریڈٹ کا خط، اور سرمایہ کاروں کے لئے مزید بہت ہے، اور بھی دنیا بھر میں بروکرز اور مالیاتی مشیر کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ سے کام کر سکتے ہیں، یہ ہے Dianalopezloanfil@aol.com: قرض سود کی شرح 3٪ آپ دلچسپی آپ کے ذریعے ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں تو اس کے ساتھ ایک موقع.

    نیک تمنائیں
     
    ڈیانا قرض اور خزانہ لمیٹڈ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>